لاہور(نمائندہ خصوصی)غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور جنسی زیادتی کے مقدمے سے متعلق ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کی پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں نے شدید احتجاج کیا، جس کے بعد ڈی آئی جی پریس کانفرنس ادھوری چھوڑ کر چلے گئے۔
پریس کانفرنس کے دوران سینئر کرائم رپورٹر مجاہد شیخ نے ڈی آئی جی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ “آپ میری نوکری کے پیچھے پڑے ہیں۔” اس پر فیصل کامران نے جواب دیا کہ “میں کسی کی نوکری کے پیچھے نہیں پڑا۔”
اس موقع پر مجاہد شیخ نے کہا، “میں حلفاً کہتا ہوں کہ آپ میرے دفتر آئے تھے تاکہ مجھے نوکری سے نکلوا سکیں، لیکن میرے ادارے کی انتظامیہ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔”
دورانِ پریس کانفرنس ایک اور صحافی احمد فراز نے بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا، “آپ صحافیوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ کھانے کیلئے آ جاتے ہیں، آج ہم کچھ بھی نہیں کھائیں گے۔”
صحافیوں کے مسلسل احتجاج اور تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران پریس کانفرنس مکمل کیے بغیر وہاں سے روانہ ہو گئے۔
پریس کانفرنس کے دوران پیش آنے والے واقعے پر صحافتی حلقوں میں مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، جبکہ بعض حلقوں نے اس صورتحال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے حکام اور صحافیوں دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی احترام، تحمل اور پیشہ ورانہ حدود کا خیال رکھیں۔

