فرانس میں سائبر حملہ، 400 سے زائد سپر مارکیٹس کے فریجوں کا درجۂ حرارت 50 ڈگری تک پہنچ گیا

پیرس (بی بی سی، اے ایف پی، رائٹرز) فرانس میں سائبر حملے کے نتیجے میں 400 سے زائد سپر مارکیٹس کے فریجوں اور فریزرز کا درجۂ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ گیا، جس سے لاکھوں یورو مالیت کی تازہ اور منجمد غذائی اشیا خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق ہیکرز نے مبینہ طور پر ریفریجریشن یونٹس کا درجۂ حرارت کنٹرول کرنے والے سافٹ ویئر تک رسائی حاصل کرکے نظام کا کنٹرول سنبھال لیا، جس کے بعد بعض فریجوں اور فریزرز کا درجۂ حرارت رات کے وقت بڑھ کر 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔

فرانسیسی سپر مارکیٹوں کے نیٹ ورک کوآپریٹو یو کے چیف ایگزیکٹو نے اس سائبر حملے کو انتہائی سنگین اور غیر معمولی قرار دیا۔ ان کے مطابق کمپنی کے 100 سے زائد سپر مارکیٹس کو نشانہ بنایا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انٹرمارشے اور اس کے ذیلی برانڈ نیٹو کے کم از کم 300 اسٹورز بھی اس حملے سے متاثر ہوئے۔

رائٹرز کے مطابق انٹرمارشے نے بتایا کہ پیر کی صبح سے پہلے رات کے دوران اس کے فریجوں کا درجۂ حرارت تقریباً 6 گھنٹے تک 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا رہا۔ کمپنی نے صحتِ عامہ کو لاحق ممکنہ خطرات سے بچنے کے لیے متاثرہ فریجوں میں موجود تمام غذائی اشیا تلف کردیں۔

رپورٹس کے مطابق پیر کی صبح جب سپر مارکیٹوں کے ملازمین نے فریزر کھولے تو بعض مقامات پر انہیں اندر سے گرم ہوا محسوس ہوئی۔ فرانسیسی نشریاتی ادارے بی ایف ایم ٹی وی نے ایک تصویر بھی نشر کی، جس میں آئس کریم کے حصے میں موجود ایک فریزر کا درجۂ حرارت 26.5 ڈگری سینٹی گریڈ دکھایا گیا تھا۔

سائبر حملے کے نتیجے میں ہونے والے مجموعی مالی نقصان کا درست تخمینہ سامنے نہیں آیا، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق نقصان بھاری ہوسکتا ہے۔ بی ایف ایم ٹی وی کے مطابق فرانس کے علاقے الساس میں دو سپر مارکیٹس کو مجموعی طور پر 2 لاکھ 70 ہزار یورو کا نقصان ہوا، جو تقریباً 2 لاکھ 28 ہزار برطانوی پاؤنڈ بنتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق مختلف علاقوں میں متاثرہ اسٹورز کے نقصانات کو یکجا کیا جائے تو ملک بھر میں مالی نقصان لاکھوں یورو تک پہنچ سکتا ہے۔ اس واقعے نے غذائی اشیا کو محفوظ درجۂ حرارت پر رکھنے اور صارفین کی صحت کے تحفظ سے متعلق خدشات بھی پیدا کردیے ہیں۔تاحال حملے کے ذمہ دار ہیکرز کی شناخت اور ان کے محرکات کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔