فرانس میں مہنگائی اور تعلیمی بحران کیخلاف ملک گیر احتجاج،عمارتیں نذرِ آتش،400گرفتار

پیرس (علی اشفاق سے)فرانس میں مہنگائی، پٹرول کی بڑھتی قیمتوں، عوامی سہولتوں میں کمی اور تعلیمی اداروں کی ابتر صورتِ حال کیخلاف ملک گیر احتجاج کے دوران مختلف شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، گاڑیوں اور عمارتوں کو آگ لگا دی گئی، دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے، جبکہ سیکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ دارالحکومت پیرس میں جمہوریہ اسکوائر کے اطراف پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے آگئے، جب کہ مارسیل میں مظاہرین نے سٹی ہال کے دروازے توڑنے کی کوشش کی۔ لیون میں تاریخی عمارت میں قائم سیاحتی دفتر کو آگ لگا دی گئی۔

خبر رساں اداروں کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں میں طلبہ، مزدور تنظیموں، مختلف سماجی گروپوں، ماحولیاتی کارکنوں اور 2018ء کی پیلی جیکٹ تحریک سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ فرانس کی وزارتِ داخلہ نے دوپہر تک ملک بھر میں 272 افراد کی گرفتاریوں کی اطلاع دی، جب کہ مختلف رپورٹوں میں گرفتار افراد کی تعداد 400 سے زائد بھی بتائی گئی۔ مظاہروں میں شریک افراد کی تعداد کے بارے میں بھی مختلف اعداد و شمار سامنے آئے۔ مزدور تنظیموں کے اندازوں کے مطابق ملک بھر میں تقریباً پانچ لاکھ سے ساڑھے پانچ لاکھ افراد سڑکوں پر نکلے، تاہم سرکاری اعداد و شمار اس سے مختلف رہے۔

پیرس میں مشہور جمہوریہ اسکوائر کے اطراف احتجاج کے دوران نقاب پوش افراد نے پولیس پر پتھر، آتش بازی کا سامان اور دیگر اشیا پھینکیں، جس کے جواب میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس اور پانی کی تیز دھار استعمال کی۔ علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی اور متعدد مقامات پر سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی ہونے کے باعث آمدورفت متاثر ہوئی۔

احتجاج کے دوران پیرس کے وسط میں ایک گاڑی اور اخبارات فروخت کرنے کے کیوسک کو آگ لگا دی گئی۔ بعض دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جبکہ ایک ریستوران کے آگ سے بری طرح متاثر ہونے کی اطلاع ملی۔ شہر کے بعض مرکزی مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ اگرچہ مرکزی جلوس کا بڑا حصہ ابتدا میں پُرامن رہا، تاہم دن گزرنے کے ساتھ بعض مقامات پر صورتِ حال کشیدہ ہوگئی اور پولیس کو کارروائی کرنا پڑی۔

مارسیل میں مظاہرین نے سڑک پر موجود رکاوٹوں کو استعمال کرتے ہوئے سٹی ہال کے دروازے توڑنے کی کوشش کی۔ بعض مظاہرین عمارت کے اندر داخل ہونے میں بھی کامیاب ہوئے، جہاں دیواروں پر احتجاجی نشانات بنائے گئے۔ پولیس نے مداخلت کرکے صورتِ حال پر قابو پانے کی کوشش کی، تاہم اس واقعے کے بعد شہر میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ حکام کے مطابق ملک کے متعدد شہروں میں سرکاری عمارتوں اور کاروباری مراکز کو نقصان پہنچایا گیا۔

لیون میں تاریخی عمارت میں قائم سیاحتی دفتر کو آگ لگا دی گئی، جس سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ شہر کے میئر گریگوری دوسے نے واقعے کو شہر کے لیے المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک معروف اور تاریخی عمارت تھی، جس کی تباہی سے شہریوں کو گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ مقامی پولیس کے مطابق بعض افراد نے امدادی کارکنوں کو آگ بجھانے کیلئے محفوظ طریقے سے کام کرنے سے روکنے کی کوشش بھی کی۔

فرانس کی وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ پیرس کے علاوہ مارسیل، رین، تولوز اور آنجے سمیت متعدد شہروں میں تشدد کے واقعات پیش آئے۔ گرینوبل، اوینیوں، پو، مون پلیے اور ویلیانس میں بھی عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ملیں۔ شمالی شہر لِیل میں ایک معروف امریکی برقی مصنوعات کی دکان میں توڑ پھوڑ کرکے سامان نکال لیا گیا۔ مختلف مقامات پر پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے اور متعدد افراد کی گرفتاریوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

“تعلیمی اداروں کی ابتر حالت کیخلاف طلبہ کی تحریک”
فرانس میں حالیہ احتجاج کا آغاز سرکاری ثانوی اسکولوں کی خراب حالت، اساتذہ کی کمی اور تعلیمی سہولتوں کے فقدان کے خلاف طلبہ کی تحریک سے ہوا تھا، تاہم بعد ازاں مہنگائی، بڑھتے اخراجات، سماجی عدم مساوات اور عوامی خدمات میں کمی جیسے مسائل بھی احتجاج کا حصہ بن گئے۔

گزشتہ کئی ہفتوں سے طلبہ مختلف شہروں میں مظاہرے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں تدریسی عملے کی کمی، خستہ حال عمارتوں، ناکافی بنیادی سہولتوں اور تعلیمی وسائل کی قلت نے تعلیم کا معیار متاثر کیا ہے۔ متعدد تعلیمی اداروں میں احتجاجی سرگرمیوں اور راستوں کی بندش کے باعث تدریسی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔

طلبہ کی تحریک کو بعد میں اساتذہ، والدین، مزدور تنظیموں اور دیگر احتجاجی گروپوں کی حمایت حاصل ہوگئی۔ پیلی جیکٹ تحریک سے وابستہ بعض افراد نے بھی مظاہروں میں شرکت کی، جس سے احتجاج کا دائرہ تعلیمی مطالبات سے بڑھ کر معاشی مشکلات اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف وسیع تر تحریک کی صورت اختیار کر گیا۔

“حکومت کی جانب سے اضافی اساتذہ فراہم کرنے کا اعلان”
احتجاج میں شدت کے بعد فرانسیسی حکومت نے تعلیمی مسائل حل کرنے کیلئےاقدامات کا اعلان بھی کیا ہے۔ وزیرِ تعلیم ایڈوار گیفری نے آٹھ اکتوبر کو ایک ٹیلی وژن انٹرویو کے دوران تین ہزار اضافی متبادل اساتذہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم طلبہ اور مظاہرین کا کہنا ہے کہ اب تک کیے گئے اقدامات ان کے بنیادی مسائل حل کرنے کیلئے کافی نہیں ہیں۔

حکومت نے مظاہروں کے دوران تشدد، سرکاری املاک پر حملوں اور لوٹ مار کی مذمت کی ہے۔ وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو نے کہا کہ پولیس کو انتہائی شدید نوعیت کے تشدد کا سامنا کرنا پڑا اور بعض گروپ آئندہ صدارتی انتخابات سے قبل احتجاج کو سیاسی مقاصد کیلئےاستعمال کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی تشدد کے ذریعے اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی سرکاری عمارتوں، کاروباری مراکز اور بلدیاتی دفاتر پر حملوں اور لوٹ مار میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی اور سزا دینے کا اعلان کیا ہے۔

“سیاسی رہنماؤں کے درمیان الزامات کا تبادلہ”
احتجاج کے معاملے پر فرانس کے سیاسی حلقوں میں بھی اختلافات سامنے آئے ہیں۔ بائیں بازو کی جماعت فرانس اَنسومیز کے رہنما ژاں لوک میلوںشوں نے مظاہروں میں شرکت کی اور پولیس پر مظاہرین کیخلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔ تاہم انہوں نے لوٹ مار اور آتش زنی کی مذمت بھی کی۔

وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو نے میلوںشوں کے بیانات کو خطرناک اور سیاسی مفادات پر مبنی قرار دیا، جبکہ دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی کی رہنما مارین لے پین نے الزام لگایا کہ بائیں بازو کے انتہا پسند عناصر مظاہرین کے جائز مطالبات کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔

فرانس میں یہ احتجاج ایسے وقت ہو رہا ہے جب ملک کو سیاسی اور معاشی غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا ہے اور آئندہ سال صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ مہنگائی، عوامی خدمات کے معیار، تعلیمی نظام اور پولیس کے طرزِ عمل سے متعلق شکایات نے حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

مظاہروں میں شریک مختلف گروپوں کے مطالبات اگرچہ یکساں نہیں، تاہم مہنگائی میں کمی، بہتر تعلیمی سہولتوں، عوامی خدمات کی بہتری اور سماجی انصاف کے مطالبات احتجاج کا اہم حصہ ہیں۔ حکومت کی جانب سے اضافی اساتذہ فراہم کرنے اور تشدد میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی کے اعلانات کے باوجود احتجاجی تحریک جاری ہے، جبکہ مختلف شہروں میں پیش آنیوالے پرتشدد واقعات نے ملک میں امن و امان کی صورتِ حال پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔