دوحہ / بیروت / غزہ / واشنگٹن( الجزیرہ، رائٹرز، اے ایف پی)مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران خطے میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، اسرائیل نے جنوبی لبنان پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 2 روز کے دوران 100 مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق حملوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ لبنانی ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد شہری علاقوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں نے مبینہ جنگ بندی میں مزید 45 روز کی توسیع پر اتفاق کیا تھا۔
ادھر متحدہ عرب امارات کے الظفرہ ریجن میں واقع براکہ جوہری بجلی گھر کے قریب ڈرون حملے کے نتیجے میں بجلی پیدا کرنے والے ایک جنریٹر میں آگ لگ گئی۔ اماراتی حکام کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ تابکاری کی سطح معمول کے مطابق رہی اور پلانٹ کے اہم نظام بھی متاثر نہیں ہوئے۔
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے بھی تصدیق کی ہے کہ براکہ جوہری بجلی گھر کے اطراف تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے اور ادارہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک کے انتظام کے لیے جلد نئی حکمتِ عملی پیش کرے گا، جس میں جہازوں سے ٹول ٹیکس وصول کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جلد امن معاہدہ نہ ہوا تو تہران کو “بہت برے حالات” کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ دنیا “نئے عالمی نظام کے دہانے” پر کھڑی ہے۔
ادھر غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 2 روز کے دوران 6 فلسطینی جاں بحق اور 19 زخمی ہوئے ہیں، جن میں 2 نئی ہلاکتیں بھی شامل ہیں جبکہ ملبے تلے سے مزید 4 لاشیں نکالی گئی ہیں۔

