لندن(اسکائی نیوز، دی ٹائمز، بی بی سی)برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر پر مستعفی ہونے کا دباؤ مزید بڑھ گیا، کابینہ کے اہم اراکین نے ان سے عہدہ چھوڑنے کی ٹائم لائن دینے کا مطالبہ کردیا۔
اسکائی نیوز کے مطابق وزیر داخلہ شبانہ محمود ان رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ وہ وزارت عظمیٰ چھوڑنے کا شیڈول واضح کریں۔رپورٹس کے مطابق نائب وزیراعظم ڈیوڈ لیمی اور ٹریژری کے پارلیمانی سیکریٹری جوناتھن رینولڈز بھی وزیراعظم کے ساتھ مختلف آپشنز پر مشاورت کررہے ہیں جبکہ بعض کابینہ اراکین کا مؤقف ہے کہ اب صورتحال وزیراعظم کے حق میں نہیں رہی۔
دوسری جانب ہاؤسنگ سیکریٹری اسٹیو ریڈ اور ورک اینڈ پنشنز سیکریٹری پیٹ میک فیڈن نے کیئر اسٹارمر کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں قیادت برقرار رکھنی چاہیے۔برطانوی میڈیا کے مطابق گزشتہ ہفتے بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کی خراب کارکردگی کے بعد پارٹی کے اندر بے چینی میں اضافہ ہوا، جبکہ اب تک 73 سے زائد لیبر اراکین پارلیمنٹ وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق چار جونیئر حکومتی ارکان بھی اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے ہیں جن میں جو مورس، ٹام رٹلینڈ، نوشابہ خان اور میلانی وارڈ شامل ہیں۔ٹام رٹلینڈ نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم اپنی رخصتی اور نئے لیڈر کے انتخاب کے لیے واضح ٹائم ٹیبل دیں۔
ادھر سابق وزیر کیتھرین ویسٹ نے بھی کیئر اسٹارمر پر دباؤ بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ستمبر تک مستعفی ہونے کی ٹائم لائن دیں۔اپنے حالیہ خطاب میں کیئر اسٹارمر نے کہا تھا کہ وہ کہیں نہیں جارہے اور ناقدین کو غلط ثابت کریں گے، تاہم ان کے اس بیان کے باوجود پارٹی کے اندر اختلافات کم نہ ہوسکے۔

