مسی ساگا :ناصرشاہ اورمحمد شعیب کا پاکستان فارورڈ 60+ کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں عشائیہ

مسی ساگا (نمائندہ خصوصی) پاکستان فارورڈ 60+ کرکٹ ٹیم کے دورہ کینیڈا کے موقع پر اوپن مائیک کیفے اینڈ کوزین مسی ساگا میں ٹیم کے اعزاز میں خصوصی عشائیے کا اہتمام کیا گیا، جس میں پاکستان سے آئے ہوئے 25 سے زائد کھلاڑیوں اور ٹیم ممبران سمیت مقامی کمیونٹی رہنماؤں، کرکٹ سے وابستہ شخصیات اور میڈیا نمائندگان سمیت 50 سے زائد مہمانوں نے شرکت کی۔

تقریب کا اہتمام کمیونٹی لیڈر اور اوپن مائیک کیفے اینڈ کوزین کے مالک ناصر شاہ اور برامپٹن سپر لیگ کرکٹ اور کینیڈا سپر لیگ کے بانی و صدر محمد شعیب نے مشترکہ طور پر کیا۔ تقریب میں پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کا خیرمقدم کیا گیا، جن میں کراچی، حیدرآباد، پشاور، لاہور، پنجاب کے مختلف شہروں اور دیگر علاقوں کی نمائندگی شامل تھی۔

تقریب کے دوران نماز مغرب ادا کی گئی، جس کے بعد پاکستان سے آنیوالے کھلاڑیوں اور ٹیم ممبران نے اپنا تعارف کرایا اور بتایا کہ وہ پاکستان کے کس شہر اور علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بعدازاں مہمانوں نے عشائیہ کیا، جبکہ میٹھے اور چائے سے بھی تواضع کی گئی۔ تقریب تقریباً تین گھنٹے تک خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں جاری رہی۔

جنگ نیوز کینیڈا کے چیف ایڈیٹر اشرف خان لودھی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت خوشی ہوئی 60، 50 اور 40 سال کی عمر کے کھلاڑیوں کو دیکھ کر۔ انہوں نے کہا کہ ایک صاحب ابھی کہہ رہے تھے کہ کرکٹ میں بحران آگیا، لیکن بحران کرکٹ والوں نے ہی پیدا کیا کیونکہ ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ختم کردی گئی، صرف کرکٹ ہی نہیں بلکہ تمام کھیلوں کو ختم کردیا گیا۔

اشرف خان لودھی نے کہا کہ پھر نئے کھلاڑی کہاں سے آئیں گے؟ فرسٹ کلاس کرکٹ ختم ہوگئی، ولز کپ ہوا کرتا تھا، اس کے بعد پیپسی کپ ہوا کرتا تھا، وہ سب ختم ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے 10، 15 جگہوں پر کھلاڑی موجود ہوتے تھے، لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ ٹیم میں ایک سے 12 تک کھلاڑیوں کی گنجائش ہی نہیں بنتی کہ انہیں کیسے فٹ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بڑی بات ہے کہ ان کھلاڑیوں نے کھیل کو زندہ رکھا ہوا ہے، چاہے وہ 60 سال کی عمر میں ہوں، 50 میں یا 40 میں۔اشرف خان لودھی نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کی دو خواتین کرکٹرز تھیں، جن میں ایک کا نام شمسہ تھا جبکہ دوسری کا نام انہیں یاد نہیں، وہ خود ورلڈ کپ کھیلنے کیلئےجنوبی افریقہ جانے کیلئےنکل پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ وہ اسپورٹس جرنلسٹ ہیں اور وہ تین چار ورلڈ کپ کور کرچکے ہیں، اسلئےاس واقعے سے واقف ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب وہ دونوں خواتین ورلڈ کپ کھیلنے جانے لگیں تو لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعتراض کیا کہ وہ ہماری اجازت کے بغیر کیسے جا سکتی ہیں۔ بعدازاں کچھ سیاسی لوگ بھی اس معاملے میں شامل ہوئے اور وہ خواتین ورلڈ کپ کھیلنے گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی دوران 50، 50 کی سطح پر مقابلوں کا سلسلہ بھی شروع یعنی دونوں طرف سے نمائندگی ہوئی آدھے کھلاڑی خواتین کے گروپ سے لئے گئے ہر آدھے پی سی بی کی طرف سے شامل کئے گئے۔

اشرف خان لودھی نے کہا کہ ان کے خیال میں سب سے بڑا بحران یہی ہے کہ ڈیپارٹمنٹل گیمز ہونی چاہئیں، کیونکہ انہی کھیلوں سے کھلاڑی سامنے آتے ہیں۔ ہاکی کو دیکھ لیں، کرکٹ کو دیکھ لیں، سب ڈیپارٹمنٹ سے آئے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ جہاں بھی ہوں، اس بات پر زور دیں کہ ڈیپارٹمنٹل اسپورٹس کو سراہا جائے اور کوشش کی جائے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس نظام میں لایا جائے۔

سماجی شخصیت بابا عرفان ملک نے کہا کہ انہیں یقین کریں کرکٹ کا ساری زندگی کوئی خاص شوق نہیں رہا لیکن گزشتہ چند ماہ کے دوران محمد شعیب نے انہیں کرکٹ سے اس طرح جوڑ دیا ہے کہ وہ رات 12، 12 بجے تک گراؤنڈ میں جاکر کرکٹ دیکھتے ہیں۔

انہوں نے ناصر علی اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ناصر علی کی ٹیم بھی کمال کررہی ہے، انہیں مبارکباد، جبکہ تمام کھلاڑی بھی بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔بابا عرفان ملک نے کہا کہ ناصر شاہ کا بھی بہت بہت شکریہ، جنہوں نے دوبارہ محفلیں شروع کی ہیں اور وہ ان کے دوست ہیں۔ وہ ہر چیز کو سپورٹ کرتے ہیں، خواہ وہ بیوہ خواتین کی مدد ہو، یتیموں کی شادی ہو، اسپورٹس ہوں یا سیاسی سرگرمیاں۔

تقریب میں ناصر علی اور ان کی کرکٹ ٹیم سے وابستہ افراد، وٹبی اسپورٹس کے مالک مظہر جعفری، چوہدری جاوید، مرزا، ندیم، عرفان بابا، ندیم شیخ، زیڈ نائن ٹی وی کے علی، ارسلان، علی ڈوگر سمیت متعدد کمیونٹی رہنماؤں، کرکٹ سے وابستہ شخصیات، میڈیا نمائندگان اور دیگر مہمانوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر پاکستان فارورڈ 60+ کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں اور ٹیم ممبران نے کمیونٹی کی جانب سے پرتپاک استقبال اور میزبانی پر اظہار تشکر کیا۔ تقریب کے شرکا نے کہا کہ پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کا ایک ٹیم کی صورت میں کینیڈا آنا اس بات کی علامت ہے کہ کرکٹ پاکستانی کمیونٹی کو جوڑنے اور پاکستان سے تعلق مضبوط رکھنے کا اہم ذریعہ ہے۔