ملٹن میں جارج میناکاکس میئر منتخب، گورڈ کرانٹز کا 46 سالہ اقتدار ختم کردیا

ملٹن (اشرف خان لودھی سے) کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے شہر ملٹن کے میئر کے انتخاب میں بڑا سیاسی اپ سیٹ سامنے آگیا، وارڈ 1 کے سابق کونسلر جارج میناکاکس نے طویل عرصے سے میئر کے منصب پر فائز گورڈ کرانٹز کو شکست دے کر کامیابی حاصل کرلی۔ اس نتیجے کے ساتھ ہی ملٹن میں گورڈ کرانٹز کا 46 سالہ دورِ اقتدار ختم ہوگیا، جنہوں نے 1980ء سے مسلسل شہر کی بلدیاتی قیادت سنبھال رکھی تھی۔

جاری کیے گئے غیر حتمی انتخابی نتائج کے مطابق جارج میناکاکس نے 13 ہزار 411 ووٹ حاصل کرکے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ گورڈ کرانٹز 7 ہزار 116 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ میئر کے انتخاب میں حصہ لینے والی زینب عظیم 3 ہزار 303 ووٹ حاصل کرکے تیسرے نمبر پر رہیں۔

جارج میناکاکس اس سے قبل ملٹن کے وارڈ 1 کے کونسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں شہر کے لیے نئی قیادت، رہائشی اخراجات میں کمی، معاشی ترقی اور بلدیاتی انتظامیہ میں بہتری کو اہم ترجیحات قرار دیا تھا۔

دوسری جانب گورڈ کرانٹز کینیڈا میں طویل ترین عرصے تک میئر رہنے والی سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ 1980ء سے ملٹن کے میئر منتخب ہوتے آرہے تھے اور 2026ء کے انتخاب میں ایک مرتبہ پھر اپنی نشست برقرار رکھنے کے خواہش مند تھے، تاہم اس مرتبہ ووٹرز نے تبدیلی کے حق میں فیصلہ دیا۔

ملٹن میں میئر کے انتخاب کے لیے مجموعی طور پر 10 امیدوار میدان میں تھے، جس کے باعث یہ مقابلہ شہر کی سیاسی تاریخ کے اہم انتخابات میں شمار کیا جا رہا تھا۔

انتخابی نتائج کے مطابق ووٹرز کی شرکت میں بھی گزشتہ بلدیاتی انتخاب کے مقابلے میں اضافہ دیکھا گیا۔ 38 میں سے 37 پولنگ مراکز کے نتائج آنے تک ووٹرز کی شرح 38.95 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ پیشگی ووٹنگ میں 15 ہزار 538 شہریوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔

جارج میناکاکس کی کامیابی کو ملٹن کی بلدیاتی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کی کامیابی کے بعد شہر کی نئی قیادت کو تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، رہائشی اخراجات، ٹرانسپورٹ، بنیادی شہری سہولتوں اور معاشی ترقی جیسے اہم معاملات پر توجہ دینا ہوگی۔