کینیڈا اور امریکا کے درمیان اسٹیل اور گاڑیوں پر محصولات میں کمی کیلئے مذاکرات

اوٹاوا (گلوبل نیوز)کینیڈا اور امریکا کے درمیان تقریباً 2 ماہ سے تعطل کا شکار تجارتی مذاکرات دوبارہ آگے بڑھنے لگے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان سیاسی سطح پر رابطوں میں تیزی آگئی ہے، جبکہ اسٹیل اور گاڑیوں پر عائد امریکی محصولات میں کمی کے لیے ممکنہ معاہدے پر کام جاری ہے۔

گلوبل نیوز کے مطابق مذاکرات سے براہِ راست آگاہ متعدد ذرائع نے بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، تاہم تاحال تجارتی نمائندوں کی سطح پر باضابطہ مذاکرات دوبارہ شروع نہیں ہوئے۔ کینیڈا کی جانب سے وزیر ڈومینک لی بلانک امریکی حکام سے رابطوں کی قیادت کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کینیڈا کو امید ہے کہ 3 نومبر کو امریکا میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل کوئی معاہدہ طے پاسکتا ہے، تاہم بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اتنے کم وقت میں معاہدہ طے پانے کے امکانات کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

دوسری جانب رائٹرز کے مطابق امریکا اور کینیڈا اسٹیل اور گاڑیوں پر عائد محصولات میں نرمی کے لیے معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔ مذاکرات میں امریکی قانون کے تحت کینیڈین اسٹیل پر عائد 50 فیصد اور گاڑیوں پر 25 فیصد محصولات میں کمی زیرِ غور ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک اور کینیڈا کے وزیر ڈومینک لی بلانک کے درمیان رابطے جاری ہیں۔ امریکی انتظامیہ معاہدے کے لیے کینیڈا سے مزید رعایتیں چاہتی ہے، جبکہ کینیڈا کا مؤقف ہے کہ کوئی بھی معاہدہ ملکی مفادات کے مطابق ہونا چاہیے۔

مذاکرات سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر معاہدہ طے پایا تو اس کا دائرہ محدود رہ سکتا ہے اور اس میں بنیادی توجہ اسٹیل اور گاڑیوں پر محصولات میں کمی پر ہوگی۔

کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات اگست میں اس وقت تعطل کا شکار ہوگئے تھے جب آخری مرحلے میں امریکی حکام نے ایسی شرائط پیش کیں جنہیں کینیڈین حکومت نے ناقابلِ قبول قرار دیا تھا۔ ان میں کینیڈا کی دوسرے ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدے کرنے کی صلاحیت سے متعلق شرائط بھی شامل تھیں۔

اس کے بعد امریکا نے کینیڈین مصنوعات پر اضافی محصولات عائد کیے، جس کے جواب میں کینیڈا نے بھی امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات لگائے۔