صنعتوں کیلئے 8.7 ارب ڈالر کا پیکیج، کینیڈا قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کریگا:مارک کارنی

اوٹاوا (گلوبل نیوز، وال اسٹریٹ جرنل، ایسوسی ایٹڈ پریس)کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کے جواب میں ملکی صنعتوں کو مضبوط بنانے کے لیے 8.7 ارب کینیڈین ڈالر کے امدادی منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی تجارتی معاہدے میں کینیڈا کے قومی مفادات اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

مارک کارنی نے پیر 26 اکتوبر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا امریکا کے ساتھ ایسا تجارتی معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے جو تمام کینیڈین شہریوں کے مفاد میں ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگست میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے پیش کی گئی شرائط کینیڈا کے لیے قابلِ قبول نہیں تھیں، اسی لیے انہیں مسترد کردیا گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کا مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے گا اور ملکی مفادات کو مقدم رکھا جائے گا۔

جب وزیراعظم سے پوچھا گیا کہ انہیں کیسے یقین ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد اس کی پابندی بھی کریں گے تو انہوں نے مختصر جواب دیا: ’’مجھے یقین نہیں۔‘‘

دوسری جانب امریکی محصولات کے اثرات سے ملکی صنعتوں اور کارکنوں کو تحفظ دینے کیلئےوفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مجموعی طور پر 8.7 ارب کینیڈین ڈالر کے امدادی منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ مارک کارنی نے 21 اکتوبر کو اونٹاریو کے وزیراعلیٰ ڈگ فورڈ کے ہمراہ اس منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد اسٹیل اور گاڑیوں کی صنعت کو سہارا دینا، پیداواری صلاحیت بڑھانا اور ملازمتوں کا تحفظ کرنا ہے۔

منصوبے کے تحت اسٹیل کی صنعت کے لیے 5 ارب ڈالر سے زائد مختص کیے گئے ہیں، جن سے کارخانوں کی مشینری جدید بنانے، پیداوار میں تنوع لانے اور امریکا کے علاوہ دیگر عالمی منڈیوں میں کینیڈین اسٹیل کی برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی۔

گاڑیوں کی صنعت کے لیے 2.5 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں، جن کا مقصد کار ساز کمپنیوں کو پیداواری نظام جدید بنانے اور برقی گاڑیوں سمیت مستقبل کی جدید گاڑیوں کی تیاری میں سرمایہ کاری کے قابل بنانا ہے۔ حکومت کے مطابق اس منصوبے سے اسٹیل کی صنعت میں ایک لاکھ سے زائد اور گاڑیوں کے شعبے میں ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد براہِ راست ملازمتوں کے تحفظ میں مدد ملے گی۔

اس کے علاوہ شمالی اونٹاریو کے معدنی وسائل سے مالا مال علاقے رنگ آف فائر تک سڑکوں کی تعمیر کے لیے ایک ارب ڈالر کی وفاقی سرمایہ کاری بھی کی جائے گی۔ اس علاقے میں موجود اہم معدنیات برقی گاڑیوں کی بیٹریوں اور جدید صنعتی پیداوار کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہیں۔

مارک کارنی نے کہا کہ امریکا کی تجارتی پالیسی میں تبدیلی کے باعث کینیڈا کو اپنی صنعتی بنیاد مضبوط بنانے اور دیگر عالمی منڈیوں کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ان کی حکومت کا ہدف آئندہ 10 برس میں امریکا کے علاوہ دیگر ممالک کو کینیڈا کی برآمدات دوگنا کرنا ہے۔ وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کینیڈا کو اپنی تجارتی پالیسی اور دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کے فیصلے خود کرنے کا حق حاصل ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق کینیڈین حکومت امریکی اسٹیل کمپنی کلیولینڈ کلفس کے ساتھ بھی تنازع میں ہے، جس نے اونٹاریو میں اپنے کارخانوں میں ملازمین کی تعداد کم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ کینیڈین حکام کا مؤقف ہے کہ کمپنی نے 2024ء میں اسٹیل کمپنی اسٹیلکو کو خریدتے وقت ملازمتوں کے تحفظ سے متعلق جو وعدے کیے تھے، ان پر عمل درآمد ضروری ہے۔ حکومت نے وعدوں کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

مارک کارنی نے امریکا پر انحصار کم کرنے اور عالمی منڈیوں میں کینیڈا کی موجودگی بڑھانے کی حکمت عملی کے تحت یورپی یونین کے ساتھ بھی تعلقات مضبوط بنانے پر توجہ دی ہے۔ وہ رواں ہفتے مونٹریال میں یورپی یونین کے رہنماؤں کی میزبانی کریں گے، جہاں معاشی اور سکیورٹی تعاون پر بات چیت متوقع ہے۔