ممبئی (انڈین میڈیا، دی ایکسپریس ٹریبیون) بالی ووڈ کے سینئر اداکار نصیرالدین شاہ نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے پولیس کارروائی کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ طلبہ پر ہونے والا تشدد دیکھ کر ان کا “خون کھول اٹھتا ہے”۔
ایک ویڈیو پیغام میں نصیرالدین شاہ نے کہا کہ اگر ایک جاہل شخص ملک کی قیادت کرے گا تو وہ چاہے گا کہ پورا ملک بھی اسی کی طرح جاہل، بے حس اور بے رحم بن جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل اسکول آف ڈرامہ (این ایس ڈی) اور فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ایف ٹی آئی آئی) سے تعلیم حاصل کرنے کے باوجود انہوں نے سب سے زیادہ سیکھا انہی نوجوانوں اور تعلیم یافتہ افراد سے، جنہیں وہ کبھی پڑھاتے رہے۔
انہوں نے احتجاج کرنے والے طلبہ کے حق میں اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا، “اس وقت میرا دل بھی بھرا ہوا ہے اور میرا خون بھی کھول رہا ہے کہ ہمارے بچوں کے ساتھ کس طرح ظلم کیا جا رہا ہے۔ نقاب پوش اہلکاروں کے ہاتھوں ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔ کبھی اپنے بچوں کے بارے میں بھی سوچو، ایک دن تمہیں بھی اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔”
نصیرالدین شاہ نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ مایوس نہ ہوں اور اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہیں ہمیشہ ملک کے نوجوانوں سے بڑی امیدیں رہی ہیں، جو اب مزید مضبوط ہو گئی ہیں۔
انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، “سب یاد رکھا جائے گا۔”
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب نئی دہلی میں چلو پارلیمنٹ مارچ کے دوران جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔
طلبہ، سماجی کارکن سونم وانگچک اور کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ مبینہ نیٹ (NEET-UG) امتحانی پرچہ لیک اور دیگر بے ضابطگیوں نے لاکھوں طلبہ کا مستقبل متاثر کیا ہے۔
نصیرالدین شاہ سے قبل سونو سود، دیا مرزا، شبانہ اعظمی، سوارا بھاسکر، پرکاش راج، دلجیت دوسانجھ، رتیش دیش مکھ، ویر داس، جنیلیا دیش مکھ، رچا چڈھا، سوناکشی سنہا، آیوش شرما اور اریجیت سنگھ بھی طلبہ کی حمایت کا اظہار کر چکے ہیں۔

