اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمان کو سرکاری پیسے دیے جاتے تھے تو اس کا کہیں نہ کہیں ریکارڈ ضرور موجود ہوگا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کامران مرتضیٰ نے کہا کہ آج فرمائشی پروگرام تھا جس کا مقصد مولانا فضل الرحمان پر کیچڑ اچھالنا تھا۔ مولانا خود کسی کے پاس نہیں گئے تھے بلکہ اسپیکر وزیراعظم کا پیغام لے کر ان کے پاس آئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں وزرا کو ایک دن بعد خیال آیا کہ مولانا کو جواب دیا جائے۔ محسن نقوی سخت زبان استعمال کیے بغیر بھی کہہ سکتے تھے کہ انہیں کوئی خصوصی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم نے ہمیں بلایا تھا تو اسی وقت کہنا چاہیے تھا کہ آپ حصہ مانگ رہے ہیں۔ اگر مولانا فضل الرحمان اتنے ہی خراب تھے تو وزیراعظم ان کے پاس اپنے لوگ کیوں بھیج رہے تھے؟
انہوں نے مزید کہا کہ 2024ء میں ہم بھی چاہتے تو 2، 3 وزارتیں لے سکتے تھے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے موقع پر طلال چوہدری ان کے پاس ایک پیشکش لے کر آئے تھے۔جے یو آئی رہنما نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان بالکل غصے میں نہیں ہیں بلکہ وہ پارٹی کی ہدایات کے مطابق چل رہے ہیں۔

