مکہ پر ڈرون حملہ، پس منظر اور نتائج!

سعودی عرب حکام کے مطابق یمن کے حوثیوں نے دوسری بار مکہ پر ڈرون حملہ کیا اور یہ ڈرون مکہ کے مغربی حصے میں دفاعی اہلکاروں نے تباہ کر دیا جبکہ پہلے حملے میں آئل پائپ لائن کو نقصان پہنچنے سے سعودی حکومت کی طرف سے تیل کی بہمرسانی روک دی گئی اور مرمت کا کام شروع ہے اس میں چند روز لگیں گے، آرامکو کی طرف سے تیل فراہم کرنے کا سلسلہ رُک جانے سے عالمی مارکیٹ پر مزید بوجھ آ پڑا ہے۔یورپی ممالک بھی پریشان ہو گئے ہیں۔سعودی دفاعی افواج کی طرف سے ان حملوں کا جواب دینے کا اعلان کیا گیا جبکہ باغی حوثیوں کا کہنا ہے سعودی عرب نے فضائی حملے کئے ہیں۔ ایران، امریکہ جنگ کے باعث آبناء ہرمز کی بندش کے بعد حوثیوں کی طرف سے حملے شروع کر دینے سے باب المندب بھی قریباً بند ہے اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر کی معیشت پھر سے ہل کر رہ گئی ہے اور آئل کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، دیگر ممالک تو متاثر ہوئے تاہم پاکستان پر بڑا بوجھ پڑا ہے اور یہاں ہر روز نرخ بڑھائے جا رہے ہیں۔ آج(جمعرات) پٹرول کا نرخ 293 روپے50پیسے فی لیٹر ہے اور شہریوں کا خوف ہے کہ آج کی شب مزید اضافہ ہوا تو پٹرول چارسو روپے فی لیٹر ہو جائے گا جبکہ ڈیزل کے نرخ420سے425 روپے فی لیٹر تک متوقع ہیں۔اس صورتحال نے وفاقی حکومت کی طرف سے چھوٹی گاڑیوں اور موٹر سائیکل والوں کو دی جانے والی سبسڈی متاثرین تک پہنچنے سے پہلے ہی غیر موثر ہو گئی ہے اب تک تو رجسٹریشن کے عمل مکمل نہیں ہوئے، اکثر پٹرول پمپ والے پٹرول دینے سے انکاری ہیں، آرامکو کی طرف سے سپلائی نہ ہونے سے آرامکو کے پٹرول پمپ بند کر دیئے گئے ہیں۔ادھر پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن والوں نے سبسڈی کے ذریعے پٹرول پمپوں کو نئی مشکل میں ڈالنے پر احتجاج کیا گیا،ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق روزانہ قیمتوں کے تعین سے وہ پہلے ہی مشکل میں مبتلا ہیں اور یہ مزید بوجھ لاد دیا گیا ہے، بہتر ہے کہ حکومت یہ سبسڈی براہِ راست دیکر تیل سستا کر دے اور روز کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کا سلسلہ ختم کر کے سابقہ پندرہ روزہ طریق بحال کیا جائے۔

مکہ میں ڈرون حملہ سے مسلم دنیا میں شدید تشویش پھیل گئی وزیراعظم محمد شہباز شریف شریف نے بڑے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے جبکہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان مختلف ممالک کے سربراہان سے رابطے بھی کر رہے ہیں۔ مکہ پر ڈرون حملہ کے وقت امریکہ اور حوثیوں کے درمیان اومان میں مذاکرات ہو رہے تھے اس سے قبل جب ٹرمپ کے بقول ان کے ”بہترین دوست“ محمد بن سلمان نے حوثیوں کی جارحیت کے حوالے سے ان سے دو بار بات کی اور حوثیوں پر فضائی حملوں کے درخواست مگر انہوں (ٹرمپ) نے جواب میں انکار کر دیا اور بتایا کہ حوثی ان کے ساتھ رابطے میں ہیں،اس کے بعد ہی انہوں نے امریکی وفد کو حوثیوں سے ملاقات کیلئے بھیجا۔

قارئین! حالاتِ حاضرہ سے واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے بڑی عیاری(ہوشیاری نہیں) سے یہ محاذ کھلوایا ہے اور یہ احساس اجاگر کیا کہ وہ (ٹرمپ) ایسے بھی دنیا کی معیشت سے کھیل سکتے ہیں کہ وہ تو روس اور چین کے ساتھ ساتھ یورپی ممالک سے بھی خفا ہیں اپنے ہمسائے کینیڈا کو بھی دبا کر رکھنا چاہتے ہیں جبکہ وینزویلا کا حوالے دیتے ہوئے وہ آبناء ہرمز پر قبضہ کیلئے ایرانی جزیروں پر فوج کشی کر کے قبضے کا عندیہ دیتے رہتے ہیں۔

حالاتِ حاضرہ کے حوالے سے ماہرین کی آراء بھی سامنے آ رہی ہیں اور حال ہی میں سہ ملکی معاہدہ کا ذکر کر کے جلنے والے ممالک کا ذکر بھی کیا جا رہا ہے حالانکہ بار بار یہ وضاحت کی گئی ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اب مکہ پر حملوں سے یہ وقت آ چکا ہے کہ سہ فریقی قیادت غور کرے کہ اس صورتحال میں معاہدے پر عمل کی صورت کیا ہو سکتی ہے کہ حوثیوں کی طرف سے ”سیز فائر“ کے کوئی آثار نہیں،جبکہ ان کو امریکہ سے بھی خطرہ نہیں، جغرافیائی حیثیت جاننے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ حوثی یمن کے جس علاقے پر قابض ہیں وہ دشوار گذار پہاڑی سلسلہ ہے اور امریکہ کچھ عرصہ قبل یہاں بمباری کر کے اپنے اسلحہ کا نقصان کر چکا ہوا ہے۔

یہ تو وہ حالات ہیں جو ظاہر اور دنیا میں ان پر بات ہو رہی ہے، میں اس حوالے سے ایک بار پھر یاد دِلانا چاہتا ہوں کہ دجالی قوتیں برسر پیکار ہیں اور ان کا نشانہ خصوصی طور پر مسلمان ہیں کوئی کہے یا نہ کہے، مانے یا نہ مانے۔یہ جنگ اور حالات کلمہ گو ممالک کیلئے پیدا کئے جا رہے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ مل کر اہتمام کرتے ہیں جہاں تک حوثیوں کا تعلق ہے تو مجھے1979ء یاد آ رہا ہے جب ملک پر ضیاء الحق حکمران تھے، تب یمنی باشندوں نے مسجد الحرام پر قبضہ کر لیا تھا اور ان دِنوں تو عبادتی سلسلہ بھی منقطع ہو گیا تھا۔ سعودی اہلکار قبضہ نہ چھڑا سکے تو پاکستان سے کمانڈوز دستہ بھیجا گیا جس نے کئی روز کی لڑائی کے بعد یہ قبضہ ختم کرایا اور یوں 1979ء کو شروع ہونے والا قبضہ1980ء میں ختم ہوا،جہاں تک حوثیوں کا تعلق ہے تو وہ اپنے عقیدے اور مسلک کے مطابق یہ سب کر رہے ہیں۔ قارئین! اس سلسلے میں گوگل سے مدد لیں تو ان کو علم ہو جائے گا یہ حضرات کس عقیدے کے مالک ہیں اور ان کا سعودی عرب سے تنازعہ پرانا ہے،اس لئے ان کو کوئی غرض نہیں کہ خطے میں مسلمانوں پر کیا بیت رہی ہے،اسرائیل کے عزائم کیا اور امریکہ کا مقصد کیا ہے۔یہ سب واضح ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد کی کوئی کوشش برداشت نہیں اس لئے حوثیوں کے خلاف کارروائی سے انکار اور ان سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے تاہم حرمین شریفین کا تقدس سب مسلمانوں پر واجب ہے اور حوثیوں نے سہ ملکی دفاعی معاہدہ کو امتحان میں ڈال دیا ہے۔اگرچہ ایران نے حوثیوں کے ساتھ تعاون سے انکار کیا لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ حوثی ایران کے حمایت یافتہ ہیں۔اب پھر وہ وقت ہے جب مسلمانوں کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہو گا،اس سلسلے میں پاکستان اور ترکیے پر بھاری ذمہ داری ہے۔