پیشہ صحافت سے منسلک ہوئے اب 63سال ہو گئے۔ 1963ء میں بڑے شوق سے اس ”مقدس تر“ پیشے میں آیا تو ابتداء ہی میں سینئر حضرات کی گفتگو یہ تھی کہ صحافت زوال پذیر ہے، جب میں نے ”امروز“ میں قدم رکھا تو اس وقت یہ اخبار اور ادارہ پی پی ایل سے منسلک انگریزی روزنامہ پاکستان ٹائمز اور دوسرے جریدے بھی نیشنل پریس ٹرسٹ کے زیر انتظام آچکے تھے، ہمارے ایڈیٹر ظہیر بابر اور چیف رپورٹر عبداللہ ملک (مرحومین) تھے، میرا زیادہ تعلق سید اکمل علیمی سے تھا کہ پہلے سے جان پہچان اور شہر داری بھی تھی، چنانچہ ابتداء ہی سے سید اکمل علیمی سے اس فن کو سیکھنے کی استدعا اور ابتداء کی اور پھر ایک طویل وقت گزرا، ان حضرات کے علاوہ حمید جہلمی، احمد بشیر، حمیدہاشمی، فضائل ہاشمی، محمود سلطان، عالم نسیم، بدرالاسلام بٹ اور پھر تنویر زیدی، رضا حمید اور ممتاز شفیع کے علاوہ وحید منہاس بھی شامل ہوئے۔ یہ حضرات اللہ کو پیارے ہو چکے، ہمارے نیوز ایڈیٹر عظیم قریشی اور ان کے نیوز روم والے ملک اسلم میرے سمیت تاحال بقید حیات ہیں۔ یہ سب عرض کرنے کا مقصد ذاتی غرض نہیں، صرف یہ بتانا تھا کہ اس دور میں جب ایوب خان کی آمریت میں پی پی ایل بھی نیشنل پریس ٹرسٹ کا حصہ تھا اور سرکاری اثر و رسوخ کا حامل تھا، تب بھی صحافت کی اقدار کا تحفظ کیا جاتا، ضابطہ اخلاق پر ہمیشہ سے عمل ہوتا تھا، احترام کا رشتہ ہونے کے باوجود افسرانہ تکلف نہیں تھا سب کولیگ تھے، ہمارے یہ سینئر حضرات تمام تر مجبوریوں کے باوجود حتیٰ الامکان خبروں اور آراء کے معاملے میں محتاط اور غیر جانبدار تھے۔ ادارے کے چیف ایگزیکٹو اور روزنامہ پاکستان کے نامزد چیف ایڈیٹر زیڈ اے سلہری بھی پیشہ ور صحافی تھے اس لئے ہمیں پابندیوں کی کوئی زیادہ پریشانی نہیں ہوتی تھی اور ہر آفت اور بلا کے لئے ایڈیٹر کا سر اور سینہ موجود تھا، حتیٰ کہ صورت حال یہ تھی کہ پی ایف یو جے اور پی یو جے کی ٹریڈ یونین سرگرمیوں پر بھی کوئی قدغن نہ تھی بلکہ ایک دور میں فیڈریشن کے عہدیدار اگر اجلاس میں شرکت کے لئے کسی دوسرے شہر جاتے تو ان کو آمد و رفت کا خرچ دفتر سے ملتا تھا، ہمارے صدا بہار صدر منہاج برنا بھی پاکستان ٹائمز سے منسلک تھے۔ اے ٹی چودھری اور آئی ایچ راشد کا تعلق بھی اسی ادارے سے تھا، صفدر میر جو پی پی ایل ورکرز یونین کے سخت گیر صدر ہوئے اور ان کی اقتدا میں دفتر کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ لگا جو برطرف ملازمین کی بحالی کیلئےتھا۔
یہ سب لکھنے اور یاد کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آج کے دور میں جب بات کرنی ایسی مشکل نہ تھی، صحافتی پیشے کا جو حال خود فیڈریشن کے دستور پر پورا اترنے والے صحافیوں اور سکائی لیب کی طرح اوپر سے گرنے والے پیشہ ورحضرات کے علاوہ سوشل میڈیا والوں کی مہربانی سے ہو گیا ہے اس سے ہم جیسے بوڑھے لوگ قبریاد کرنے پر مجبور ہیں، سوچتے ہیں تو اس فرق کا بھی اندازہ ہوتا ہے جو اس آمریت اور آج کے جمہوری دورمیں ہے۔ آمریت کا سخت ترین مخالف ہونے اور جمہوریت کے ساتھ ساتھ اس کے انعام آزادی صحافت کے لئے ملازمتوں سے برطرفی، پولیس کے ڈنڈوں سے خاطر اور جیل یاترا کرنے والا ہوں تاہم جو حالت میرے ملک کی آج ہے یہ کبھی بھی نہ تھی، البتہ سیاست دان حضرات کا ایک تکیہ کلام آج بھی دماغ کی کھڑکیوں پر دستک دیتا ہے۔ ہر ایک یہی کہتا ملک خطرے میں ہے اور یہ تکیہ کلام ابتداء ہی سے کہا جانے لگا تھا اور بالآخر 1971ء میں سانحہ ہو گیا۔ ایک کے دو ملک بن گئے، میں اپنے دور رپورٹنگ کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق یہ بات یقین سے کہتا ہوں کہ اس سانحہ میں کسی فریق کو بری الذمہ قرار نہیں دیاجا سکتا وہ اس وقت کے حکمران ہوں، سیاستدان یا صحافی سب اس میں شریک ہیں، میرے تجربے اور مشاہدے کے مطابق اس اشرافیہ کا بڑا حصہ ہے جو صنعتوں اور تجارت پر قابض تھی اور دور ایوبی میں 22خاندان کا تمغہ سینے پر سجائے بیٹھی تھی۔
آج جب میں یہ تحریرلکھ رہا ہوں تو میرے ذہن میں تمام ادوار ایک فلم یا ویڈیو کی طرح چل رہے ہیں اور تب کے ادوار اور آ ج کے دور میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ پرنٹ میڈیا باقاعدہ ایک ریکارڈ اور نئے دور کا الیکٹرونک میڈیا ویڈیوز کا حامل ہے، قارئین کرام! سابقہ ادوار اور آج کے دور والے سیاسی اور حکمرانی بیانات (ان کو اب بیانیہ بھی کہاجاتا ہے)پڑھ، دیکھ اور سن لو، اگر ان میں کوئی فرق آیاہے تو جو چاہے سزا دیں میں قبول کرلوں گا۔ بدقسمتی سے اقتدار والے ہوں یا حزب اختلاف والے سب سابقہ سبق دہراتے چلے جاتے ہیں، اگر کوئی فرق ہے تو صرف اتنا کہ آج جو حزب اختلاف والے کہہ رہے ہیں، گزشتہ دور میں یہ سب آج کے اقتدار والے کہہ رہے تھے اور یہ سلسلہ چلتا چلا آ رہا ہے، بلکہ ایک اچھے دور میں جب صحافتی تنظیم مفادپرستی کا شکار ہو کر دل کے ٹکڑوں کی طرح بکھری نہیں تھی تو ہم سب رپورٹر ساتھی کسی جلسے یا پریس کانفرنس کے بعد آپس میں بات کرتے تو یہ کہتے کہ قلم گھسیٹنے سے بہتر ہے کہ یہ خبر بنائی جائے کہ آج فلاں رہنما نے پریس کانفرنس کی اور انہوں نے، جو کچھ فرمایا وہ دو روز قبل کے اخبار میں دیکھ لیجئے، لیکن نہ تو اس پر کبھی عمل ہوا اور نہ ہی بولنے اور تقریر کرنے والوں کے الفاظ، الزام یا جواب میں کوئی تبدیلی واقع ہوئی۔
یہ سب لکھتے ہوئے بھی دل بہت دکھی ہے حتیٰ کہ دعا مانگتا ہوں کہ یا اللہ اگر ہم ہی راہ راست پر نہیں آنا چاہتے تو خود ہی اپنا کرم فرما کہ تو رب العالمین ہے۔ آج جو حالات ہیں وہ ایسے ہیں کہ ملک کے ہر فرد کو اپنا اپنا مفاد بھول کر صرف اور صرف وطن کے تحفظ کا سوچنا چاہیے،پہلے بلوچستان، پھر خیبرپختونخوا اور اب آزادکشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ ہرگز اچھا نہیں کہ دشمن بھی تاک میں ہے اور ہروقت اپنی پراکسیز کے ذریعے ہمیں بے چین کئے ہوئے ہے۔آج بھی سب سیاستدان اور حکمران مذاکرات اور مفاہمت کی بات کرتے ہیں لیکن کوئی بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کو تیار نہیں، یہاں تومولانا فضل الرحمن جیسے سینئر اور تجربہ کار کہلانے والے سیاستدان۔(جی ہاں! سیاست دان کہ اب ان کو عالم نہ کہاجائے) کی زبان پھسل گئی اور اب وہ خاموش اور ان کی جماعت والے دفاع کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ حضرت کے دوست دشمن توپیں چلا چلا کر ان کو بھسم کرنے کے درپے ہیں، اس حوالے سے جو حضرات مذمت مذمت کھیل رہے ہیں وہ اپنے رویوں پر غور کرنے کو تیار نہیں ہیں اور یہی لمحہ فکریہ ہے۔
میرا خیال تھا کہ اس حوالے سے عرض کروں لیکن پھر سوچا کہ یہاں بڑے نازک مقام آتے اور نازک مزاجی بھی بہت ہے اس لئے بشرطیکہ صحت و زندگی مناسب وقت پر عرض ہوگی، اب تو اللہ سے رحمت کی دعا ہے۔

