لاہور(نمائندہ خصوصی)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان میں مکمل جمہوریت نہیں بلکہ جاگیردارانہ جمہوریت ہے، کسانوں کی نمائندگی جاگیردار اور مزدوروں کی نمائندگی سرمایہ دار کر رہے ہیں۔
لاہور میں نئے نظام اور صوبوں کی تشکیل پر مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جمہوری دور میں نئے نظام پر بحث اور مکالمہ ہونا خوش آئند ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیا ایسی جمہوریت چاہیے جس کے ثمرات عام پاکستانیوں تک نہ پہنچیں؟ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر جمہوریت کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ سکتے، جبکہ دنیا کی حقیقی جمہوریتوں میں تیسری سطح کی حکمرانی کا نظام موجود ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ 18ویں ترمیم میں اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کا طریقہ کار چاہتے تھے، لیکن یہ ترمیم اختیارات کی منتقلی کے بجائے اختیارات کے ارتکاز کا باعث بنی۔
انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے اور نئے صوبوں کی بات کر رہی ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی نے پنجاب میں نئے صوبے اور بلدیاتی نظام کے حق میں ووٹ دیا۔ان کا کہنا تھا کہ حکمران آئین کی صرف وہ شقیں مانتے ہیں جو ان کے مفاد میں ہوں، جبکہ عوام کو فائدہ دینے والی آئینی شقوں پر عمل سے گریز کیا جاتا ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے موروثی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی سربراہان خود الیکشن لڑیں اور اپنے خاندان کو انتخابات میں نہ لائیں، موروثی سیاست اور خاندانی حکومت کے ساتھ پاکستان آگے نہیں چل سکتا۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے متوسط طبقے کے لوگوں کو ایوانوں میں پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ این ایف سی اور پی ایف سی ایک ہی فارمولے کے تحت ہونے چاہئیں۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں کوئی معاشی بحران نہیں بلکہ نیتوں کا بحران ہے، جب تک نیتوں کا بحران ٹھیک نہیں ہوگا معاشی بحران بھی حل نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ تجارتی خسارہ اور اس سے بڑھ کر اعتماد کا فقدان ہے، اعتماد اور اخلاقی بحران ختم کیے بغیر حالات بہتر نہیں ہوں گے۔

