نیتن،ٹرمپ کو بھی لے ڈوبا!

دل تو کئی روز سے مچل رہا ہے کہ اپنے مہربان مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے گزارشات پیش کروں کہ ان سے یاد اللہ اس وقت سے ہے جب وہ صاحبزادہ اور ان کے ذی وقار والد مفتی محمود حیات تھے۔ ہم دو تین دوستوں نے مفتی محمود کے بعد مولانا فضل الرحمن کی امارت کے لئے حمائت بھی کی، ان کے مقابلے میں بھی تین صاحبزادگان تھے تاہم کامیابی ان کو ملی اگرچہ ایک امیدوار نے اپنی تنظیم بنا لی۔ ایک سیاست ہی سے دستبردار ہوگئے اور ایک اب ان کی جماعت میں ایک سینئر عہدیدار ہیں، یہ چند باتیں بھی تمہید کے لئے ہیں کہ ہم ان سے دیرینہ شناسائی کا دعویٰ رکھتے ہیں اگرچہ اب ان کے صدر جیسے پروٹوکول کی وجہ سے ملاقات مشکل ہو چکی ہے۔

بہرحال یہ سلسلہ کسی نہ کسی وجہ سے ٹلتا رہا اور آج پھر موخر ہو گیا کہ دنیا کو امریکہ سے بہت بڑی خبر مل گئی ہے جس کے مطابق امریکی عوام نے کھل کر امن کے حق میں فیصلہ دے دیا اور وسط مدتی انتخابات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاروں خانے چت ہو گئے، نہ صرف کانگرس (ایوان نمائندگان) ان کی جماعت کے ہاتھ سے نکل گیا بلکہ سینٹ میں بھی ڈیموکریٹ کو ناقابل یقین اکثریت مل گئی ہے اب ٹرمپ کو وہ حمائت نہ مل سکے گی جو نیتن یا ہو کے ایماء پر مظلوموں پر ظلم کے لئے بھی حاصل تھی، میں سمجھتا ہوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو غزہ کے مظلوموں کی بددعا لگی ہے جن کو اس نے تسلی دے کر دھوکا دیا اور اپنے یار نیتن یاہو کو مسلسل مظالم اور ظلم سے نہ روکا، دوسرے ڈونلڈ ٹرمپ نے خود تسلیم کیا ہے کہ ایران جنگ اورمہنگائی اس کے خلاف گئی ہے۔

انتخابات تو امریکہ میں ہوئے اور یہ ہرچار سال بعد ہوتے ہیں جبکہ صدارتی انتخابات کے موقع پر بھی سینیٹ میں نومنتخب لوگ بھی آتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نتائج تسلیم کرلئے اور ساتھ ہی پیشکش کی ہے کہ ڈیمو کریٹ سے تعاون بھی ہو سکتا ہے اس کے ساتھ ہی حسب عادت ویٹو، ویٹو، ویٹو کہہ کر دھمکی بھی دی ہے۔ یہ فلسفہ انہوں نے پولنگ سے پہلے ہی اختیار کرلیا تھا، لیکن عوام پر اس کا بھی کوئی اثر نہ ہوا اور انہوں نے واضح طور پر ٹرمپ کی پالیسیوں پر عدم اعتماد کر دیا ہے۔ وہ (ٹرمپ) جمہوریت اور عوامی رائے کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو اب ان کو ثبوت بھی دینا اور اول تو مستعفی ہو کر جے ڈی وینس کے لئے جگہ خالی کر دینا چاہیے کہ وینس جنگ کے حوالے سے زیادہ بہتر ڈیلنگ والے نظر آتے رہے ہیں، ایرانی قیادت نے بجا طور پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے رائے دی ہے کہ امریکی عوام نے جنگ کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے۔ دنیا بھرسے ردعمل ہر ایک کی اپنی اپنی ڈپلومیسی کے حوالے سے آ رہا ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ امریکی عوام نے درست فیصلہ کرکے صدر امریکہ کو مثبت جواب دیا ہے جو ان کو سمجھ لینا چاہیے تاہم ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں لگتا، اب تو یہ دیکھنا ہوگا کہ جنگ کے حوالے سے محترم کی پالیسی میں کوئی فرق آتا ہے یا نہیں کہ فیصلہ جنگ کے خلاف اور امن کے حق میں ہے، وسط مدتی ان انتخابات سے قبل ایسی خبریں بھی چلائی گئیں کہ ٹرمپ ایران پر ایٹمی حملہ بھی کر سکتا ہے جبکہ صہیونی نیتن یاہو نے بھرپور کوشش کی کہ ٹرمپ ایران پر نئے حملے کا حکم دے دے تاہم صدر امریکہ اس بار جھانسے میں نہ آئے حالانکہ وہ نیتن کو اپنا دوست کہتے ہیں اور ان کے انتخاب میں بھی کھلی حمائت کی اور اسرائیلی رائے دہندگان سے نیتن کو جتوانے کے لئے کہا لیکن ایسا نہ ہو سکا اور اب اسرائیل میں نئی حکومت اور نئے وزیراعظم کے لئے لابنگ جاری ہے، اس طرح یوں بھی کہا جا سکتا ہے ”ہم تو ڈوبے تھے صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے“ اور نیتن یاہو اپنے ساتھ ٹرمپ کو بھی لے ڈوبے ہیں، امریکی ایوانوں کی ایسی صورت حال بھی ہے کہ ٹرمپ کے مواخذہ کیلئےبھی آوازیں اٹھیں گی۔

حالیہ وسط مدتی انتخابات میں ایک اور امر بھی واضح ہوا کہ ری پبلیکن کی طرف سے کسی مسلمان کو امیدوار نہیں بنایا گیا جبکہ ڈیمو کریٹ کی طرف سے گیارہ مسلمانوں نے ٹکٹ پر الیکشن لڑا، مشی گن سے ایک نوجوان امیدوار السید بھی کامیاب ہوا اور امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان سینیٹر کا مقام حاصل کیا، اس امیدوار نے ری پبلیکن کی جیتی گئی نشست چھین لی ہے۔میرا ذاتی خیال ہے کہ ٹرمپ کی تارکین وطن اور اسلاموفوبیا والی پالیسیوں نے بھی اس کے خلاف کام کیا یوں کہیں کہ وہ بزعم خود طاقت کے نشے میں اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارتے رہے، دنیا بھر میں یقین ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب حالات تبدیل ہوں گے اور امن کی راہ ہموار ہو گی کہ ٹرمپ اور نیتن دونوں کو انہی کے رائے دہندگان نے جواب دیا ہے۔

اسرائیل کے ایماء پر مسلط کی گئی جنگ اور اس کے اثرات پورے مشرق وسطی اور پاکستان سمیت دنیا کے تمام ممالک پر پڑے اور کساد بازاری ہوئی، مہنگائی کا ایک طوفان برپا ہوا جس کی وجہ سے مضبوط سے مضبوط معیشت بھی لڑکھڑائی،خود امریکہ کے اندر مہنگائی بڑھی تو برطانیہ کے ساتھ ساتھ دوسرے یورپی ممالک بھی متاثر ہوئے۔ اسی مہنگائی کے خلاف فرانس سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے یورپ میں بھی پھیل گئے اور کافی نقصان بھی ہوا، توقع تویہ کی جاتی ہے کہ اب یورپ والے بھی انصاف سے کام لیں گے۔ فلسطینیوں کی مظلومیت کا احساس شدت پکڑے گا اور نیٹو والے روس، یوکرین جنگ بندی میں بھی معاون ہوں گے تاکہ ہر طرف امن ہو اور معیشتیں بہتر ہوں تاکہ عوام کو سُکھ کا سانس ملے۔ حالیہ حالات میں حکومت پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کی طرف توجہ دی اور عالمی مارکیٹ میں قیمتیں گرنے کا فائدہ اپنے شہریوں کو دینا شروع کیا ہے، اب اگر حالات نے کوئی ناگہانی کروٹ نہ لی تو یقینا پٹرولیم مصنوعات مزید سستی ہوں گی اور ہم بھی مستفید ہوں گے۔