ولید انمٹ نقوش چھوڑ کر چلا گیا

والدین کو جواں بچے کی موت وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہے.مرنا تو برحق ھے اور ہم سب نےبالآخر اس دنیا سے ایک دن رخصت ہو کر اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے لیکن کچھ لوگ اس انداز اور سج دھج سے اچانک رخصت ہوتے ہیں کہ انکے چھوڑے ہوئے انمٹ نقوش ایک طویل عرصہ تک آپکے دل و دماغ پہ چھائے رہتے ہیں آپ ان کو اپنی آنکھوں کے سامنے جیتا جاگتاچلتا پھرتا ہنستا مسکراتا محسوس کرتے ہیں اور آپ کو انکی موت کا یقین ہی نہیں ہوتا ہے.

یہ رواں سال 19جون کا واقعہ ہے کہ میں مسی ساگا کینیڈا میں اپنی بیٹی کے گھر میں موجود تھا موسم خوشگوار اور آسمان پہ ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے اسوقت دن کے اڑھائی بجے تھے میں نے اپنے موبائل فون پر فیسبک کھولا تو اچانک میرے بچپن کے عزیز ترین دوست محمد ادریس کی ایک پوسٹ پہ نظر پڑی جس میں لکھا تھا کہ میں اپنے ان تمام دوستوں عزیزواقارب اوراحباب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے میرے بیٹے ولید ادریس کے نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت کی۔ مزید لکھا تھا کہ مرحوم کی مغفرت اور والدین سمیت ورثاء کے صبر کےلئے دعا ضرور کیجئے۔ یہ پوسٹ مجھ پہ بجلی بن کرگری ولید کا ہنستا مسکراتا چہرہ میرے سامنے آگیا۔ وہ ایک کڑیل خوبصورت صحتمند سرخ و سفید اور قد آور جوان تھا وہ 6 فٹ 2 انچ کا تھا جسکی عمر صرف 32 سال تھی اور اسکی شادی کو ابھی تین سال بھی پورے نہیں ہوئے تھے مجھے اسکے والد اور اپنے قریبی دوست محمد ادریس کی یہ پوسٹ پڑھ کر یقین نہیں آیا اور میرے دل و دماغ میں شکوک و شبہات نے سر اٹھایا کہ کیا یہ کوئی فیک پوسٹ تو نہیں ہےاسوقت کینیڈا میں دن کے اڑھائی بجے کا وقت تھا جبکہ پاکستان میں اس وقت آدھی رات کا وقت تھا میں نے ولید مرحوم کی موت کی تصدیق کیلئے پاکستان میں اپنے دوستوں اور محمد ادریس کی نووامیڈ فارماسیوٹیکل کمپنی میں اپنے دوستوں سے رابطہ کی کوشش کی مگر ناکام رہا آخرکار دو گھنٹے بعد ولید کی اچانک اور ناگہانی موت کی تصدیق ہو گئی۔

وہ صرف 32 سال کی عمر میں ایک fatal ہارٹ اٹیک کا شکار ہوا اور منوں مٹی تلے اپنے دادا مرحوم کے پہلو میں دفنا دیا گیا۔ ولید کے والد محمد ادریس سے میں نے پاکستان پہنچ کر تعزیت کی تو میرے گلے لگ کر رونے لگ گئے اور مجھے بھی رلایا۔ ولید میرے دوست کا بیٹا اور میرا بھتیجا تھا وہ ہمیشہ مجھ سمیت ہر ایک سے مسکرا کر ملتا تھا اور اسکی موت نے ایک وسیع حلقہ احباب کو اداس کر دیا ہے۔

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص جو سارے شہر کو ویران کر گیا

ولید نووامیڈ ہیلتھ کئیر میں ڈائریکٹر تھا اس نےاپنے پسماندگان میں بیوی سمیت والدین دو بھائی دو بہنیں چھوڑی ہیں اسکی وفات کے کچھ دنوں بعد اللہ کریم نے ولید کی بیوی کو ایک خوبصورت پھول سی بیٹی سے نوازا ہےاللہ کریم اس پھول سی بیٹی کےمقدر سنوار دے اور اسکے دادا اور دادی کو صحت سلامتی کیساتھ عمر دراز کرے۔ ولید کے والد محمد ادریس نے مجھے بتایا کہ ولید خوش خوراک تھا اور ان سے چھپ کر پیزا برگر وغیرہ کھاتا تھا لیکن ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ خوش خوراک ہیں اور ان کو کبھی کوئی دل کی تکلیف نہیں ہوئی۔انھوں نے بتایا کہ ولید مرحوم نے جتنی بھی زندگی گزاری وہ ساری زندگی اپنی مرضی سے گزاری اور جو دل کیا وہ کھالیا اور اسکے ساتھ خوش لباسی کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ قسمت کا کھیل دیکھیں کہ اسکے ساتھی ڈائیریکٹر عمر طاہر اور صہیب شفیق اسکی موت کے وقت ملک سے باہر تھے اور اسکے جنازہ اور تدفین میں شرکت نہیں کرسکے۔ عمر طاہر کے بقول ولید سب کی خوشی اور غم میں شریک ہوتا تھا وہ انتہائی ہنس مکھ اور با اخلاق شخصیت کا مالک تھا عمر طاہر نے مزید بتایا کہ وہ ابتک اسکی موت کا یقین نہیں کرسکے اور اسکے آفس میں نہیں گئے جہاں وہ کمپنی کے اکابرین کیساتھ اہم میٹنگز کرتا تھا عمر نے بتایا کہ انھوں نے ولید کیساتھ کراچی دوبئی چائنا کمبوڈیا اور ویت نام کا سفر اکٹھے کیا جسکی یادیں آج بھی تازہ ہیں ولید نے اے لیول کرنے کے بعد گریجویشن کی تھی اور دوسروں کی خوشی میں خوش ہونے والا انسان تھا ولید ہارٹ اٹیک کے نتیجہ میں زندگی کی بازی 17 جون 2026 کو دن 3 بجکر 35 منٹ پہ ہار گیا تھا۔ اسکی فیکٹری میں کارکنوں انتظامیہ اور مالکان کو ایک جیسا کھانا دیا جاتا ہےمیں ادریس سے تعزیت کرنے گیا تو مجھے نووامیڈ فیکٹری کے کک محمد ارشد نے بتایا کہ ولید مرحوم کارکنوں کا ہر طرح سے خیال رکھتے تھے اپنی اچانگ ناگہانی موت سے چند دن پہلے انھوں نے محمد ارشد سے کہا کہ انکل بریانی میں ذرا مصالحہ تیز ڈالا کریں اور کراری بنایا کریں جس پر ارشد نے کہا کہ سر اگلی بار آپکی فرمائش پوری ہوگی۔ ولید کا کولیسٹرول لیول ھائی تھا لیکن اسکے باوجود وہ اپنے والد سے چھپ کر میکڈونلڈ سے کھانا منگوا کر عمر طاہر کے کمرہ میں بیٹھ کر کھایا کرتا تھا صہیب شفیق نے بتایا کہ ولید کیساتھ بہت سی انمٹ یادیں ہیں.

کھا گئی کس کس کی نظر عہد جوانی میں تجھے
لے گئی موت اس سمندر کی روانی میں تجھے

جواں موت ایک گہرا اور ناقانل برداشت صدمہ ہےجو پورے خاندان اور معاشرہ کو ہلا کر رکھ دیتا ہےولید میرے سامنے بڑا ہوا پڑھائی لکھائی کی شادی کی اور اپنی بیوی والدین اور بہن بھائیوں سمیت اپنے دوستوں اور کارکنوں کو سوگوار چھوڑ کر چلاگیا ہےمیں اسکےآفس کے کمرہ کے آگے سے گزرتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ وہ ابھی مجھے آواز دیگا کہ جلیل صاحب میرے ساتھ مل کر کافی پی لیں پھر چلے جائیے گا۔

ولید کی اللہ تعالی اگلی تمام منزلیں آسان فرمائے۔ وہ اوپر جہاں بھی ہےوہاں ہمیشہ خوش رہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اوپر سے اپنی پھول سی ننھی بیٹی کو تکتا ہوگا اسے پیار کرتا ہوگا ہماری دعا ہے کہ اللہ کریم اس ننھے سے پھول کو مقدر کا سکندر بنا دے۔ اسکی بیوی بقول محمد ادریس کے بڑی صابر حوصلے والی اور با ہمت لڑکی ہے میری دعا کہ یہ بچی اپنی پھول سی بچی کیلئے ایک بہترین ماں ثابت ہو اور اللہ رب العزت اسے دونوں جہانوں میں کامیاب اور سرخرو کرے۔ محمد ادریس بڑے حوصلے اور مضبوط اعصاب کا مالک ہے لیکن جواں سال بیٹے کی میت کو کندھا دینا اور اپنے ہاتھوں سے اسے دفنانا بہت دل گردے صبر اور حوصلے کا کام ھے وقت گزرنے کیساتھ ہر انسان اپنا بڑے سے بڑا دکھ اور غم بھول جاتا ہے لیکن اولاد کا دکھ اور انکی اچانک موت والدین کبھی نہیں بھولتے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ ولید مرحوم کے والدین تمام بہن بھائی دوست احباب رشتہ دار اور نووا میڈ فاماسیوٹیکل کمپنی کے تمام ڈائیریکٹر شراکت دار اور کارکنوں کو اللہ کریم یہ صدمہ سہنے کا حوصلہ دے اور تمام متاثرہ لوگوں اور بالخصوص غم زدہ فیملی کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین