اوسلو (رائٹرز، نوبیل کمیٹی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نوبیل امن انعام نہ ملنے سے متعلق خدشہ درست ثابت ہوگیا، نوبیل امن انعام 2026جنوبی افریقا سے تعلق رکھنے والی قانون دان اور انسانی حقوق کی علم بردار ناوانیتھم ’’ناوی‘‘ پلے کو دینے کا اعلان کردیا گیا۔
ٹرمپ نے انعام کے اعلان سے قبل کہا تھا کہ وہ خود کو نوبیل امن انعام کا حق دار سمجھتے ہیں، تاہم انہیں شبہ ہے کہ کمیٹی انہیں یہ اعزاز نہیں دے گی۔
امریکی صدر نے کہا تھا کہ انہیں معلوم نہیں کہ نوبیل کمیٹی کیا فیصلہ کرے گی، تاہم اس کمیٹی کی شہرت ایسی ہے کہ شاید وہ ان جیسے لوگوں کو انعام نہ دے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ نوبیل امن انعام کا وقت قریب ہے اور اس مرتبہ انہیں یہ اعزاز ملنا چاہیے۔
نوبیل کمیٹی کے مطابق ناوی پلے کو امن اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کیلئے خدمات پر یہ اعزاز دیا گیا ہے۔ کمیٹی نے جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مقدمات میں قانونی کارروائی کو آگے بڑھانے کے لیے ان کے کردار کو بھی سراہا۔
85سالہ ناوی پلے جنوبی افریقا کے شہر ڈربن میں بھارتی تامل نژاد خاندان میں پیدا ہوئیں۔ وہ جنوبی افریقا کی ہائی کورٹ کی جج رہیں، روانڈا میں نسل کشی کے مقدمات کی سماعت کرنے والے بین الاقوامی ٹریبونل کی صدر اور اقوام متحدہ کی سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق بھی رہ چکی ہیں۔ انہوں نے نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کے لیے طویل عرصے تک کام کیا۔
نوبیل کمیٹی نے کہا کہ ناوی پلے کی خدمات عالمی سطح پر قانونی نظام کو مضبوط بنانے اور جنگی جرائم کے ذمہ داروں کو جواب دہ ٹھہرانے میں اہم رہی ہیں۔

