ٹرمپ کی بحرِ اوقیانوس یا بحرالکاہل کا نام ’’ٹرمپ اوشن‘‘ رکھنے کی تجویز

واشنگٹن (واشنگٹن پوسٹ، پیپلز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیج میکسیکو اور جھیل اونٹاریو کے نام تبدیل کرنے کی کوششوں کے بعد اب بحرِ اوقیانوس یا بحرالکاہل کا نام تبدیل کرکے ’’ٹرمپ اوشن‘‘ یا ’’امریکاز اوشن‘‘ رکھنے کی تجویز پیش کردی۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ نے 10 اکتوبر کو ریاست ٹینیسی کے شہر کلارکس وِل میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس خلیج ہے، ایک خوب صورت جھیل ہے اور اب کسی نے کہا ہے کہ ہمیں ایک دریا بھی چاہیے۔

امریکی صدر نے کہا کہ وہ دریائے ہڈسن کا نام تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے دریائے مسیسیپی کا ذکر کرتے ہوئے بھی کہا کہ اس کا نام تبدیل نہیں کریں گے، کیونکہ انہیں اس دریا اور ریاست مسیسیپی سے محبت ہے، جہاں وہ بڑے فرق سے کامیاب ہوئے تھے۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ سوچ رہے ہیں کہ بحرِ اوقیانوس یا بحرالکاہل میں سے کسی ایک کا نام تبدیل کرکے اسے ’’ٹرمپ اوشن‘‘ یا ’’امریکاز اوشن‘‘ قرار دے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی مدتِ صدارت ختم ہونے سے پہلے یہ کام ہونا چاہیے، تاہم انہوں نے کسی ایک سمندر کا انتخاب نہیں کیا اور نہ ہی کسی باقاعدہ منصوبے کا اعلان کیا۔

اس سے قبل ٹرمپ 27 اگست کو بھی ایک تقریب کے دوران ان دونوں سمندروں میں سے کسی ایک کا نام تبدیل کرنے کا خیال پیش کرچکے ہیں۔ انہوں نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے تناظر میں آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کرکے ’’آبنائے ٹرمپ‘‘ رکھنے کی تجویز بھی دی تھی۔

امریکی حکومت وفاقی اداروں کے استعمال اور سرکاری نقشوں میں جغرافیائی نام تبدیل کرنے کی ہدایت دے سکتی ہے، تاہم ایسے فیصلے دوسرے ممالک یا بین الاقوامی اداروں کو پابند نہیں کرتے کہ وہ بھی نئے نام تسلیم کریں۔ جنوری 2025ء میں ٹرمپ نے خلیج میکسیکو کو ’’خلیج امریکا‘‘ قرار دینے کا حکم دیا تھا، جبکہ اگست 2026ء میں جھیل اونٹاریو کیلئے’’لیک امریکا‘‘ کا نام استعمال کرنے کی ہدایت دی تھی۔