سیر صبح کے بعد جب دوست(محلے دار) پارک میں جمع ہوتے ہیں تو جہاں بھر کی گفتگو ہوتی ہے۔ موضوع کی کوئی قید نہیں لیکن عموماً حالات حاضرہ پر ہی بات ہوتی ہے۔ آج (جمعہ) صبح ٹرمپ ہی زیر بحث تھے جنہوں نے اب نئی ٹرمپنی(درفنطنی) چھوڑی ہے کہ اگر عوام نے انہیں ناپسند کر دیا تو وہ اسرائیل چلے جائیں گے اور وہاں جا کر وزیراعظم بن جائیں گے۔ اس پر گرہ لگائی گئی دنیا کی جان تو پھر بھی نہ چھٹے گی البتہ ٹرمپ کے دوست نیتن یاہو بے موت مارے جائیں گے اب تک نیتن یاہو ظلم کے سہارے فراڈ کے مقدمات سے بچے چلے آ رہے ہیں جو اب شاید ممکن نہ ہو جیسے امریکہ میں ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف محاسبے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ٹرمپ کے خلاف تو خاتون کی بے حرمتی کے کیس کی سماعت بھی شروع ہونے کا امکان ہے جبکہ ان کے وزیر جنگ ہیگستھ کے خلاف ایوان نمائندگان میں باقاعدہ مواخذہ کی تاریخ پیش کر دی گئی ہے۔ وزیر جنگ نے اپنے ہی انداز میں جواب دیا ہے کہ وہ تحریک کا زور شور سے مقابلہ کریں گے۔
بات چلی تو اس حد تک آ گئی کہ ڈیموکریٹ کی دونوں ایوانوں میں واضح اکثریت سے حکمرانوں (ٹرمپ وغیرہ) کو کیا فرق پڑے گا جو اب بھی ایران پر نئی حملوں کی تیاری کررہے ہیں۔ امریکہ کے موقر اخبار نیویارک ٹائمز نے تو خبر دی ہے کہ اب تک اسرائیل اور ٹرمپ انتظامیہ نے باہمی طور پر طے کرلیا ہے کہ ایران پر درمیانہ اور شدید قسم کے حملے ہوں گے۔ عام حضرات کے لئے تعجب کی یہ بات ہے کہ امریکہ کے محکمہ جنگ نے مشرق وسطیٰ میں ایسا جدید ترین اسلحہ پہنچا دیا ہے جو ابھی تک کہیں بھی استعمال نہیں ہوا اس میں بغیر انسان کے ڈرون تو تھے ہی اب ایسی چھوٹی آبدوزیں بھی بھیجی گئی ہیں جو سمندر میں کسی انسان کے بغیر بیرونی کنٹرول سے کارکردگی کا مظاہرہ کریں گی۔ ادھر ایران کی طرف سے مسلسل خبردار کیا جا رہا ہے کہ اب حملہ ہوا تو خطے میں امریکی مفادات کو شدید نقصان پہنچائیں گے جبکہ اس کے ساتھ قطر کا وفد تہران میں موجود ہے اور جنگ بندی کے لئے کوشش کررہا ہے جبکہ پاکستان مسلسل حالات میں شامل اور باخبر ہے۔ ٹرمپ صاحب نے حسب معمول دھمکیاں دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی اقرار کیا کہ فی الحال حملے کا کوئی ارادہ نہیں اور بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں جن کا نتیجہ آنے پر ہی فیصلہ ہوگا، یوں امریکہ میں اتنی بڑی تبدیلی کے بعد بھی صدر ٹرمپ اپنی ضد پر قائم ہیں جبکہ اب تو امریکی نائب صدر نے بھی زبان کھول کر الزام تراشی کر دی ہے۔ جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ حملہ سے منع کیا گیا تھا لیکن نیتن یاہو کے اصرار پر ایسا کیا گیا۔(امریکی صدر کے آئینی اختیارات کے حوالے سے وہ اب بھی بااختیار ہیں)
دوسری طرف حالات یہ ہیں کہ دنیا بھر نے سکھ کا سانس لیا، ٹرمپ کے مخالف اور حامی ان کی شکست سے مطمئن ہوئے کہ شاید وہ اب ان کی بات مان لیں اور دنیا میں امن ہو جائے اس سے عام آدمی کی مشکلات ختم یا کم ہوں گی، حتیٰ کہ جنگ کے حامی بھی اب اس سے گریزپا ہیں لیکن سپین جیسے ملک نے تو برملا ٹرمپ کی شکست پر اپنی رائے کا اظہار کر دیا ہے۔ زیر غور اور زیر بحث یہی بات تھی کہ ٹرمپ کو جب جنگی ضرورت کے لئے بجٹ نہیں ملے گا اور وزیر جنگ کو تو اب جلد ہی اخراجات کا حساب دینا ہوگا تو یقینا جنگ جاری رکھنا مشکل ہوگا اور شاید اسی توقع کے ساتھ پٹرولیم کے نرخ گرے ہیں اور ہماری حکومت نے بھی مزید کمی کر دی ہے یہ تین روز میں تیسری بار کی گئی ہے اس سے حوصلہ پا کر ہی پاکستانی شہری مطالبہ کررہے ہیں کہ پٹرول دو سو روپے فی لٹر اور ایل پی جی کی دستیابی یقینی بنا کر منافع خوروں کو لگام ڈالی جائے اور مہنگائی کم کی جائے۔
قارئین! یقینا آپ حضرات بھی جہاں اور جیسے بیٹھے یا مصروف ہوں گے وہاں بھی اشیاء ضرورت و خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ پر گفتگو ہوتی ہوگی، آج تو یہ عرض کرنے کی اجازت دیں اور جان کی امان دے دیں کہ اب تو چوتھی جماعت کے طالب علم بھی مہنگائی ہی کی بات کررہے ہیں، میں نے دوستوں کو بتایا کہ میرا پوتا محمد اشعر عاصم چودھری سکول جاتے ہوئے گھر سے والدین کی طرف سے دی گئی اشیاء خورد لے کر جاتا ہے جبکہ ہفتے میں ایک روز اسے پیسے بھی دیئے جاتے ہیں کہ اس روز وہ سکول کینٹین سے اپنی پسند کی شے لے کر کھائے، اس بار صبح و ہ میرے پاس آیا اور معمول کے مطابق پیسے طلب کئے۔ میں نے ایک سو، ڈیڑھ سو او دو سو تک دینے کی کوشش کی تو اس نے انکار کر دیا اور ساڑھے تین سو روپے مانگے، جب میں نے لیت و لعل کیا تو وہ بولا! دادا ابو! اب مہنگائی بہت ہو گئی اور کینٹین سے بھی اشیاء مہنگی ملتی ہیں، سو بات یہ ہوئی کہ چھوٹے بچوں کو بھی گرانی کا احساس ہے۔ اسلم صاحب نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ ہم پرانے لوگ آؤٹ ڈیٹیڈ ہیں، اب تو جین زی کے بعد جین اے ٹو زی آ گئی ہے جسے اتنی چھوٹی عمر میں یہ احساس تنگ کررہا ہے اس لئے ہمیں غور کرنا چاہیے۔

