اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدے کی خوشی میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی اہم سرکاری عمارتوں اور شاہراہوں کو سجا دیا گیا۔
ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس اور پارلیمنٹ کی عمارتوں پر چراغاں کیا گیا جبکہ اسلام آباد کی اہم شاہراہوں پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے پرچم لہرا دیے گئے۔ مکہ دفاعی معاہدے سے متعلق شاہراہوں پر خیرمقدمی بینرز بھی آویزاں کیے گئے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کا دورہ مکمل کرکے وطن واپس پہنچ گئے۔وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے کو اتحاد اور قیام امن کے مشترکہ عزم کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے خطے کی سیکیورٹی میں اضافہ اور استحکام آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے عوام کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ وزیراعظم نے دفاعی معاہدے کو عملی شکل دینے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تینوں ممالک کے مشترکہ خواب کو حقیقت میں بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ علاقائی امن اور استحکام کیلئےہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے حامی دیگر ممالک بھی اس معاہدے میں شامل ہوسکتے ہیں۔

سعودی عرب نے بھی واضح کیا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ خطے کی کسی ریاست کی سلامتی کیلئے خطرہ نہیں ہے۔ سعودی حکام کے مطابق معاہدہ خلیجی ممالک، عرب اتحادیوں، امریکا اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ سعودی عرب کے اسٹریٹجک تعلقات کو متاثر نہیں کرے گا۔
وفاقی دارالحکومت میں تینوں برادر ممالک کے پرچموں سے آراستہ اہم شاہراہوں اور عمارتوں نے دفاعی معاہدے کے حوالے سے ہونے والی تقریبات کے موقع پر ایک منفرد منظر پیش کیا۔

