لاہور(نمائندہ خصوصی)ملک بھر کی 50 سے زائد سماجی، مزدور، کسان، خواتین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع ساہیوال کے مزارعین کو جاری کیے گئے بے دخلی کے نوٹس فوری واپس لیے جائیں، انہیں زیرِ کاشت زمینوں کی ملکیت دی جائے اور ترقیاتی منصوبوں کے نام پر جبری بے دخلی کا سلسلہ بند کیا جائے۔
لاہور پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے صدر طارق محمود، جنرل سیکرٹری رفعت مقصود، ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن فاروق طارق، جوائنٹ سیکرٹری قمر عباس، سیکرٹری اطلاعات حسنین جمیل فریدی، انجمن مزارعین پنجاب کے صدر مہر غلام عباس سیال، جنرل سیکرٹری محمد اخلاق اور ویمن ایکشن فورم کی ارم کاشف نے کہا کہ ساہیوال کے گاؤں 9-ایل (90/92) کے مزارعین کو بے دخلی کے نوٹس تشویشناک ہیں اور ان کے تاریخی، قانونی اور اخلاقی حقوق کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔
مقررین کے مطابق مذکورہ گاؤں میں تقریباً 250 ایکڑ زرعی اراضی پر کسان خاندان 1914ء سے کاشتکاری کر رہے ہیں۔ ابتدا میں 20 خاندان یہاں آباد تھے، جبکہ اب 105 خاندانوں پر مشتمل تقریباً 3 ہزار افراد کی زندگی اور روزگار اسی زمین سے وابستہ ہے۔
پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا گیا کہ حالیہ دنوں میں ضلعی انتظامیہ نے گاؤں کا دورہ کرکے اراضی کی نشاندہی کی اور مزارعین کو آگاہ کیا کہ گرین پاکستان انیشی ایٹو اور مجوزہ آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کے تحت زمین خالی کرائی جائے گی۔
مقررین کا کہنا تھا کہ نسلوں سے زمین آباد کرنے والے کسانوں کو بے دخل کرنا ہزاروں افراد کو رہائش اور روزگار سے محروم کرنے کے مترادف ہوگا، جبکہ اس کے منفی اثرات خواتین، بچوں، بزرگوں، زرعی مزدوروں اور دیہی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔
پریس کانفرنس کے دوران مختلف سیاسی، کسان، مزدور، خواتین، نوجوان اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ایک مشترکہ درخواست بھی پیش کی گئی، جس میں مزارعین کے مالکانہ حقوق تسلیم کرنے اور بے دخلی کے نوٹس واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔
تنظیموں نے اپنے مشترکہ مطالبات میں ساہیوال اور دیگر متاثرہ علاقوں کے تمام بے دخلی نوٹس واپس لینے، گرین پاکستان انیشی ایٹو، آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم یا کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے نام پر جبری بے دخلی روکنے، مزارعین کو مستقل ملکیتی حقوق دینے، زمینیں ان کے نام منتقل کرنے، کسی بھی اراضی واگزاری سے قبل شفاف مشاورت اور قانونی تقاضے پورے کرنے، جبکہ چیف آف آرمی اسٹاف، وزیر اعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری مداخلت کرکے مزارعین کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر پاکستان کسان رابطہ کمیٹی اور انجمن مزارعین پنجاب نے حکومتِ پاکستان اور حکومتِ پنجاب پر زور دیا کہ وہ مزارعین کے حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں زمینوں کی ملکیت دیں اور جبری بے دخلی کا عمل فوری طور پر روکیں۔

