پی ٹی آئی اور تحریکِ تحفظِ آئین کا مولانا فضل الرحمٰن کی تقریر کی حمایت کا اعلان

اسلام آباد (نامہ نگار)پاکستان تحریکِ انصاف اور تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے وفد نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کرکے قومی اسمبلی میں ان کی تقریر کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور حکومتی وزرا کی جانب سے ان کے خلاف ذاتی حملوں اور کردار کشی کی مذمت کی۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے مطابق 29 اکتوبر 2026ء کو ان کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے ترجمان حسین احمد یوسفی پر مشتمل وفد نے اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔

اسد قیصر کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ وفد نے قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمٰن کی تقریر کی مکمل حمایت کی اور حکومتی وزرا کی جانب سے ان کی کردار کشی کی سخت مذمت کی۔

بیان کے مطابق وفد کے ارکان نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی حملوں اور کردار کشی میں تبدیل کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے، سیاسی قیادت کا احترام ہر حال میں برقرار رہنا چاہیے۔

ملاقات میں سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں کی قید کی بھی مذمت کی گئی۔ وفد کے ارکان نے الزام عائد کیا کہ انہیں بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے اور اہل خانہ اور وکلا سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

شرکا نے خبردار کیا کہ اس طرزِ عمل کے نتیجے میں کوئی ناخوشگوار صورتِ حال پیدا ہوئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔