ماسکو ( رائٹرز، کریملن، تاس) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے کریملن میں 3 گھنٹے 10 منٹ تک ملاقات کی، جس میں یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
روسی صدارتی معاون یوری اُوشاکوف کے مطابق ملاقات انتہائی مفید، تعمیری اور کھلے ماحول میں ہوئی، تاہم فوری طور پر کسی اہم پیش رفت یا معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ روسی صدر کے معاون یوری اُوشاکوف اور روسی براہِ راست سرمایہ کاری فنڈ کے سربراہ کیریل دیمتریف بھی امریکی وفد سے مذاکرات میں شریک تھے۔
ملاقات کے آغاز پر صدر پیوٹن نے وٹکوف اور کشنر سے کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک ان کی نیک خواہشات اور تشکر پہنچائیں۔ پیوٹن نے کہا کہ روس امریکا کے ساتھ رابطوں کو مفید سمجھتا ہے اور واشنگٹن کے ساتھ یوکرین بحران کے حل کے لیے کام جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
روسی حکام کے مطابق امریکی وفد نے یوکرین جنگ کے ممکنہ خاتمے سے متعلق امریکی تجاویز ماسکو کے سامنے رکھیں۔ مذاکرات کے بعد وٹکوف اور کشنر یوکرین کے دارالحکومت کیف روانہ ہوگئے، جہاں ان کی یوکرینی قیادت سے ملاقات متوقع ہے۔
اس سے قبل امریکی وفد نے روسی سرمایہ کاری فنڈ کے سربراہ کیریل دیمتریف سے بھی کئی گھنٹے ملاقات کی تھی۔ روسی حکام کے مطابق مذاکرات میں یوکرین کے معاملے کے ساتھ اقتصادی تعاون کے امکانات بھی زیرِ بحث آئے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے وفد کے دورے سے قبل کہا تھا کہ وٹکوف اور کشنر روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ٹھوس امن تجویز پر بات کریں گے۔ تاہم روس اور یوکرین کے درمیان اب بھی علاقائی معاملات اور نیٹو سے متعلق اہم اختلافات برقرار ہیں۔

