پیپلز پارٹی کے حقیقی معنوں میں جیالے راہنما چودھری اسلم گل ، گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی فتح پر بڑے شاداں و فرحاں تھے ، وہ ان راہنماوں میں شامل ہیں ،جنہوں نے جنرل ضیاالحق کی سختیاں ،قید اور صعوبتیں جھیلیں، ایک اور جیالے ملک عثمان سلیم کے ہمراہ ملے تو ان سے پنجاب میں پیپلز پارٹی کے مسقبل کے حو الے سے بڑی سیر حاصل گفتگو ہوئی،کسی وقت میں پیپلز پارٹی کے گڑھ لاہور میں اس وقت پارٹی کیلئےایک سیٹ جیتنا بھی مشکل نظر آتا ہے مگر اسلم گل نے چند سال قبل ایک ضمنی انتخاب میں بھاری تعداد میں ووٹ حاصل کر کے ثابت کیا تھا کہ یہاں اب بھی بھٹو دے نعرے وج سکتے ہیں ۔ گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کا سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آنا بلاشبہ ایک اہم سیاسی پیش رفت ہے، اس کامیابی نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں مقبول جماعتیں محض انتخابی نتائج سے ختم نہیں ہوتیں بلکہ ان کی جڑیں تاریخ، نظریے اور عوامی یادداشت میں پیوست ہوتی ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی بھی انہی جماعتوں میں شامل ہے، ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر بے نظیر بھٹو اور پھر بلاول بھٹو زرداری تک، یہ جماعت نصف صدی سے زیادہ عرصے سے پاکستانی سیاست کا ایک اہم کردار رہی ہےلیکن سیاست میں ہر کامیابی اپنے ساتھ چند سوالات بھی لے کر آتی ہے، گلگت بلتستان میں کامیابی کے بعد پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور قیادت کو یقیناً مبارکباد دی جا سکتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ چند تلخ مگر ضروری سوالات بھی اٹھتے ہیں، کیا گلگت بلتستان کی فتح واقعی ملک گیر عوامی مقبولیت کی علامت ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر پنجاب میں پیپلز پارٹی کی سیاسی حیثیت اتنی کمزور کیوں ہے؟ اگر پارٹی کی قیادت اور پالیسیوں نے عوام کا اعتماد حاصل کر لیا ہے تو سندھ میں پندرہ سال سے زائد عرصے کی حکمرانی کے باوجود عوامی مسائل کیوں ختم نہیں ہو سکے؟یہ سوالات صرف پیپلز پارٹی کے مخالفین کے نہیں بلکہ ان لاکھوں لوگوں کے بھی ہیں جو کبھی اس جماعت کو پاکستان کی سب سے بڑی عوامی اور نظریاتی جماعت سمجھتے تھے۔
پیپلز پارٹی کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، بے نظیر بھٹو کی شہادت اور کارکنوں کی جدوجہد اس جماعت کا وہ سرمایہ ہے جس سے انکار ممکن نہیں، پاکستان کے آئین، ایٹمی پروگرام، مزدوروں اور کسانوں کے حقوق اور وفاقی اکائیوں کے اختیارات کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی خدمات بھی تاریخ کا حصہ ہیں، لیکن سیاست میں ماضی کی عظمت ہمیشہ مستقبل کی ضمانت نہیں ہوتی۔
وقت کے ساتھ ہر جماعت کو اپنی کارکردگی کی بنیاد پر خود کو ثابت کرنا پڑتا ہے، نئی نسل قربانیوں کا احترام تو کرتی ہے مگر ووٹ اپنے موجودہ مسائل اور مستقبل کی امیدوں کو دیکھ کر دیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ آج کی سیاست میں صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ماضی میں کیا خدمات انجام دی گئیں، اصل سوال یہ ہے کہ آج عوام کو کیا دیا جا رہا ہے؟
گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو اس میں کئی عوامل کارفرما ہیں، مقامی امیدواروں کی طاقت، علاقائی سیاسی حالات، انتخابی اتحاد اور مخصوص زمینی حقائق بھی نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں، پاکستان کے مختلف علاقوں میں ووٹنگ کے رجحانات ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے اس لیے کسی ایک خطے میں کامیابی کو پورے ملک میں مقبولیت کا حتمی ثبوت قرار دینا شاید درست تجزیہ نہ ہو۔
اگر گلگت بلتستان کی کامیابی کو قومی مقبولیت کا پیمانہ بنایا جائے تو پھر پنجاب میں مسلسل ناکامیوں کا جواب بھی دینا ہوگا،یہی پنجاب کبھی پیپلز پارٹی کا مضبوط ترین سیاسی قلعہ سمجھا جاتا تھا، جنوبی پنجاب سے لے کر وسطی پنجاب تک جیالوں کے نعرے گونجتے تھے، بھٹو خاندان کے جلسوں میں لاکھوں لوگ شریک ہوتے تھے۔ 1970ء کی دہائی اور اس کے بعد بھی پنجاب میں پیپلز پارٹی ایک فیصلہ کن سیاسی قوت تھی، لیکن آج صورتحال بالکل مختلف ہے،آج پنجاب میں پیپلز پارٹی اکثر حلقوں میں انتخابی مقابلے کی مرکزی فریق بھی نہیں ہوتی، کئی نشستوں پر اسے چند ہزار ووٹ حاصل کرنے میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں، سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟
کیا اس کی وجہ صرف اسٹیبلشمنٹ یا مخالف جماعتیں ہیں؟ اگر ایسا ہوتا تو سندھ میں مسلسل کامیابیاں کیسے حاصل ہوتیں؟ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی تنظیمی طور پر کمزور ہوئی، مقامی قیادت ابھر نہ سکی، پارٹی شہری متوسط طبقے سے دور ہو گئی اور وقت کے ساتھ اس کا سیاسی بیانیہ بھی دھندلا پڑ گیا،یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف نے پنجاب میں وہ سیاسی جگہ بھر دی جس پر کبھی پیپلز پارٹی کا قبضہ تھا، لیکن یہ خلا کسی اور نے زبردستی پیدا نہیں کیا بلکہ پیپلز پارٹی خود بھی اس خلا کو پر کرنے میں ناکام رہی۔
سندھ کی صورتحال اس سے بھی زیادہ اہم ہے، کیونکہ یہ واحد صوبہ ہے جہاں پیپلز پارٹی مسلسل اقتدار میں ہے، اگر کوئی جماعت اپنے نظریات، پالیسیوں اور حکمرانی کا عملی نمونہ پیش کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے سندھ بہترین موقع تھا،لیکن آج بھی کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہونے کے باوجود پانی، ٹرانسپورٹ، صفائی اور شہری منصوبہ بندی جیسے مسائل کا شکار ہے، اندرون سندھ کے متعدد اضلاع میں تعلیم اور صحت کی صورتحال تسلی بخش نہیں، دیہی علاقوں میں غربت اور پسماندگی کے مسائل اب بھی موجود ہیں۔یقیناً سندھ میں کچھ مثبت اقدامات بھی ہوئے ہیں، انفراسٹرکچر، صحت اور سماجی بہبود کے بعض منصوبے قابل ذکر ہیں، لیکن مجموعی طور پر عوامی تاثر یہ ہے کہ صوبے میں حکمرانی کے معیار میں وہ بہتری نہیں آ سکی جس کی توقع کی جاتی تھی۔
آصف علی زرداری کی سیاست بھی اس بحث کا اہم پہلو ہے، ان کے حامی انہیں مفاہمت کا ماہر اور انتہائی زیرک سیاستدان قرار دیتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے انتہائی مشکل حالات میں پیپلز پارٹی کو زندہ رکھا اور اقتدار کی سیاست میں اس کا کردار برقرار رکھا،لیکن ناقدین کا خیال ہے کہ مفاہمت کی اسی سیاست نے پیپلز پارٹی کے انقلابی اور نظریاتی تشخص کو بھی کمزور کیا۔ ایک زمانہ تھا جب پیپلز پارٹی مزاحمت، عوامی تحریک اور نظریاتی جدوجہد کی علامت سمجھی جاتی تھی،آج اسے زیادہ تر اقتدار کے ایوانوں اور سیاسی سمجھوتوں کی جماعت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ نسبتاً نوجوان، تعلیم یافتہ اور جدید سیاسی انداز رکھنے والے رہنما ہیں، عالمی فورمز پر ان کی کارکردگی اور قومی معاملات پر ان کے بیانات نے انہیں ایک سنجیدہ سیاستدان کے طور پر متعارف کرایا ہے،لیکن بلاول بھٹو کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنی جماعت کو ماضی کی یادوں سے نکال کر مستقبل کی جماعت بنانا ہے، انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ پیپلز پارٹی صرف بھٹو خاندان کی قربانیوں کا حوالہ نہیں بلکہ آج کے پاکستان کے مسائل کا حل بھی پیش کر سکتی ہے،نوجوانوں کو روزگار، معیشت کو استحکام، تعلیم کو معیار اور حکمرانی کو شفافیت درکار ہے، اگر پیپلز پارٹی ان شعبوں میں قابل عمل پروگرام پیش کرتی ہے تو وہ دوبارہ قومی سطح پر ایک بڑی قوت بن سکتی ہے۔

