بیروت ( اسرائیلی فوج، غیرملکی میڈیا)اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں دریائے لیتانی کے جنوب میں کیے گئے ایک حملے میں حزب اللّٰہ کے سینئر کمانڈر علی موسیٰ دقدوق شہید ہوگئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق علی موسیٰ دقدوق ماضی میں حزب اللّٰہ کے مبینہ گولان پورٹ فولیو کے سربراہ رہ چکے تھے اور اسرائیلی سرحد کے قریب عسکری ڈھانچے قائم کرنے اور شمالی اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں کردار ادا کرتے رہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق یہ کارروائی ان افراد کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے جنہیں اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔
اسرائیلی فوج کا مزید دعویٰ ہے کہ علی موسیٰ دقدوق حزب اللّٰہ کے سابق سربراہ شہید حسن نصراللّٰہ کے سیکیورٹی یونٹ کے سربراہ، خصوصی رضوان فورس کے کمانڈر اور نصر یونٹ کے آپریشنز ونگ میں بھی اہم ذمہ داریاں انجام دے چکے تھے، جبکہ گزشتہ کئی برسوں سے لبنان کی سرحد پر اسرائیلی فوج کے خلاف مختلف کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں بھی مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔
غیرملکی رپورٹس کے مطابق علی موسیٰ دقدوق کو 2007 میں عراق میں امریکی افواج نے گرفتار کیا تھا اور ان پر پانچ امریکی فوجیوں کے اغوا اور قتل کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہیں عراقی حکام کے حوالے کر دیا گیا، جہاں 2012 میں ایک عراقی عدالت نے انہیں بری کر دیا تھا، جس پر امریکا نے ناراضی کا اظہار کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق نومبر 2024 میں بھی شام میں ایک اسرائیلی حملے کے بعد علی موسیٰ دقدوق کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، تاہم بعد میں معلوم ہوا تھا کہ وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔ ان کے بیٹے حسان علی دقدوق دسمبر 2023 میں جنوبی شام میں ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں شہید ہوئے تھے۔
تاہم حزب اللّٰہ نے تاحال علی موسیٰ دقدوق کی شہادت کی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی اس لیے اسرائیلی فوج کے دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

