کراچی (نامہ نگار)نامور سرمایہ کار عارف حبیب نے کہا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ حکومتی اقدامات سے فوری طور پر معاشی صورتحال بہتر ہو جائے گی یا ملک میں خاطر خواہ سرمایہ کاری شروع ہو سکے گی۔
خصوصی ٹرانسمیشن “کر ڈالو، آخری موقع” میں بجٹ کے بعد معیشت کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ توانائی کی بلند قیمتوں کے باعث سرمایہ کار پاکستان کا رخ نہیں کر رہے جبکہ ٹیکسوں کی شرح بھی اب تک زیادہ ہے۔
عارف حبیب نے سپر ٹیکس کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں ہو رہے جبکہ برآمدات میں اضافے کیلئےحکومت کو توانائی کی قیمتوں اور ٹیکسوں میں مزید کمی کرنا ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس اس حوالے سے گنجائش موجود ہے، تاہم ایک اہم مسئلہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں مطلوبہ اضافہ نہ ہونا ہے، جس کی جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ بھی توجہ دلاتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجٹ کی تیاری کے دوران مختلف شعبوں سے مشاورت کی، تنخواہ دار طبقے اور برآمد کنندگان کو کچھ ریلیف بھی دیا اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو بھی اعتماد میں رکھا، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ ان اقدامات کے نتائج اور ملکی حالات میں بہتری کتنی تیزی سے آئے گی۔
دوسری جانب گل احمد ٹیکسٹائل ملز کے ڈائریکٹر زیاد بشیر نے کہا کہ حکومت موجودہ حالات میں جو کچھ کر سکتی تھی، وہ کر چکی ہے اور اس نے معیشت کو سنبھالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ویلیو ایڈیشن پر مناسب توجہ نہیں دی جا رہی، جبکہ ریلوے کے ذریعے مال برداری کا حصہ 5 فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے۔ ان کے بقول سڑکوں کی تعمیر پر توجہ دی گئی لیکن ریلوے نظام کو نظر انداز کیا گیا، جبکہ پاکستان کے پاس شپنگ کے لیے مؤثر براہ راست بندرگاہی ڈھانچے کی بھی کمی ہے، اگر ان بنیادی مسائل کو حل نہ کیا گیا تو عالمی منڈی میں مسابقت کرنا مشکل ہوگا۔

