نیویارک (رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس، اناطولیہ نیوز ایجنسی) چین اور روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر عائد پابندیوں کی آزادانہ نگرانی کیلئے ماہرین کے پینل کی مدت میں ایک سال کی توسیع کی امریکی قرارداد ویٹو کردی، قرارداد کے حق میں 11 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ پاکستان اور صومالیہ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
امریکا کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کا مقصد ایران پر دوبارہ عائد کی گئی اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کے پینل کا مینڈیٹ ستمبر 2027 تک برقرار رکھنا تھا۔ چین اور روس کے ویٹو کے باعث قرارداد منظور نہ ہوسکی۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کے پینل کا کام ایران پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزیوں سے متعلق معلومات جمع کرنا، ان کا جائزہ لینا، سلامتی کونسل کو رپورٹ دینا اور پابندیوں کے نفاذ کو بہتر بنانے کیلئے سفارشات پیش کرنا تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق پینل کا موجودہ مینڈیٹ 26 ستمبر 2026 کو ختم ہونا تھا۔
رائٹرز کے مطابق ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں گزشتہ سال فرانس، برطانیہ اور جرمنی کی جانب سے ایران پر 2015 کے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات کے بعد دوبارہ عائد کی گئی تھیں۔ ایران نے جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کے الزام کی تردید کی ہے۔
چین اور روس نے سلامتی کونسل میں ایران کے معاملے پر مغربی ممالک کی پالیسی کو سیاسی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے پابندیوں کی قانونی حیثیت پر بھی اعتراض کیا۔ روسی مندوب واسیلی نیبنزیا نے کہا کہ ایران پر پابندیوں کی بحالی کی بنیاد قانونی نہیں اور ایرانی جوہری معاملے کا حل سیاسی اور سفارتی کوششوں سے نکالا جانا چاہیے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے چین اور روس کے ویٹو کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام نے سلامتی کونسل کے سیاسی استحصال کو مسترد اور قانون کی حکمرانی کی توثیق کی ہے۔
دوسری جانب امریکی نائب سفیر جینیفر روچیٹا نے کہا کہ آزاد ماہرین کے پینل کے بغیر سلامتی کونسل پابندیوں کی خلاف ورزیوں سے متعلق غیر جانب دار اور شواہد پر مبنی رپورٹنگ کا ایک اہم ذریعہ کھو دے گی۔
واضح رہے کہ چین اور روس کے ویٹو سے ایران پر عائد اقوام متحدہ کی پابندیاں ختم نہیں ہوئیں، بلکہ پابندیوں کی آزادانہ نگرانی کیلئے ماہرین کے پینل کے مینڈیٹ میں توسیع کی قرارداد مسترد ہوئی ہے۔

