کوہاٹ(نمائندگان+ایجنسیاں) کوہاٹ کی اولڈ پولیس لائنز کے قریب نمازِ جمعہ کے دوران خودکش دھماکے میں 16 افراد شہید اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے، شہدا میں 5 پولیس اہلکار اور 11 شہری شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق دھماکا بارود سے بھری گاڑی اولڈ پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرانے کے بعد ہوا، جس کے بعد فائرنگ بھی ہوئی۔ دھماکے سے مسجد کے باہر گہرا گڑھا پڑ گیا، مسجد کا بیرونی حصہ شدید متاثر ہوا جبکہ ایک دیوار بھی گر گئی۔ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔

خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید نے بتایا کہ دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی اولڈ پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرائی، جس کے بعد دھماکا اور فائرنگ ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق خصوصی شاخ کی عمارت کے قریب ایک اور خودکش حملہ آور نے بھی خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
سینٹرل پولیس آفس کے مطابق دھماکے کے بعد 7 مسلح دہشت گرد پولیس لائنز میں داخل ہوئے، جن کے خلاف پولیس اور انسداد دہشت گردی محکمے نے کارروائی کی۔ پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران خودکش بمبار اور ایک اسنائپر سمیت متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن کیا گیا۔
ڈی ایچ کیو اسپتال کوہاٹ میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی، جہاں 15 لاشیں اور 50 سے زائد زخمیوں کو منتقل کیا گیا۔ زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ پولیس نے کوہاٹ ہنگو روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا جبکہ پولیس کی مزید نفری بھی علاقے میں پہنچ گئی۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز کے قریب دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور بیرونی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کوہاٹ دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرلی۔ انہوں نے واقعے کو انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے اور اسپتالوں میں علاج کی تمام ضروری سہولتیں یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

