کچھ بھی اچھا نہیں!

حقائق کچھ اس طرح ہیں کہ کچھ دِنوں سے پنجاب پولیس خبروں میں کافی حد تک ”اِن“ چلی آ رہی ہے۔ حال ہی میں پاکپتن کے حوالے سے ایک رپورٹ میں یہ دل دہلا دینے والی خبر ہے کہ لاہور پولیس کی حراست میں جاں بحق ہونے والی دو خواتین کو پاکپتن میں سپردِخاک کر دیا گیا، دونوں کی میتیں پولیس کی نگرانی میں ان کے آبائی علاقے بستی غوث نگر پہنچائی گئیں جہاں سکیورٹی کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی،دونوں خواتین کی بستی چن پیر درگاہ میں نمازِ جنازہ کے بعد مقامی قبرستان میں تدفین ہوئی۔

خبر میں بطورِ خاص اس بات کا ذکر کیا گیا ہے دونوں خواتین گھوم پھر کر پینسلیں فروخت کر کے گھر کی گزر بسر کرتی تھیں،اسی دوران سوشل میڈیا پر دونوں بچیوں انمول اور آمنہ کی ماں اور خالہ نے اپنے بیان میں کہا کہ دونوں کو پولیس پکڑ کر تھانے لے گئی تھی اور ہمیں بُلا کر کہا گیا کہ آپ لکھ کر دیں کہ ہماری لڑکیاں نشہ کرتی تھیں تو ہم ان کو چھوڑ دیں گے، ہم نے انکار کیا، ہماری بچیوں کا قصور یہ تھا کہ وہ خوبصورت تھیں، ہماری وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے اپیل ہے کہ انہیں اپنی ریڈ لائن کی خبر لینی چاہئے۔

اسی اثناء میں ایک قومی اخبار میں خبر نگار کے حوالے سے منظر عام پر آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق پولیس نے اس واقعہ کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں خواتین کو چار اگست کو حراست میں لیا گیا تھا دونوں ”نوسر بازی“ کے مقدمات میں ملوث تھیں۔ ابتدائی رپورٹ میں دونوں کی موت طبعی قرار دی گئی ہے پولیس رپورٹ کے مطابق خواتین کے خلاف لاہور اور گجرات میں بھی مقدمات درج تھے۔ دونوں خواتین کی ہلاکت کی وجوہ معلوم کرنے کیلئے میڈیکل بورڈ کے ذریعے پوسٹمارٹم کرایا گیا جس میں موت طبعی قرار دی گئی۔ دوسری جانب ضابطہ فوجداری کی دفعہ176 کے تحت مجسٹریٹ نے دونوں خواتین کی موت کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ ڈسٹرکٹ ایڈیشنل جج لاہور کے حکم پر تحقیقاتی رپورٹ ”ایک ماہ کے اندر“ جمع کرائی جائے گی پولیس تشدد کا معاملہ ثابت ہونے پر ذمہ دار اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔

اسی روز صوبائی دارالحکومت لاہور میں ایک احتجاجی مظاہرے کی کوریج کے دوران ایک صحافی کو بلاوجہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ خبر رساں ادارے آئی این پی کے مطابق صحافی پر تشدد کے مرتکب چار پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔انہی دِنوں لاہور کے علاقہ ٹاؤن شپ میں پولیس اہلکاروں نے تاوان کیلئے ایک نوجوان کو اغوا کر لیا ایک قومی اخبار کے لاہور سے خبر نگار کے مطابق ”ٹاؤن شپ“ پولیس نے انکوائری میں گنہگار ثابت ہونے پر بھتہ خوری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے دو حاضر سروس اور ایک سابق پولیس اہلکار کو حراست میں لیکر حوالات میں بند کر دیا ہے۔ تینوں اہلکاروں نے خود کو سی سی ڈی ماڈل ٹاؤن کا اہلکار ظاہر کیا اور تاوان کی عدم ادائیگی پر جعلی مقابلے میں مارنے کی دھمکیاں دیں، ملزموں میں کانسٹیبل عقیل، غفار اور سابق پولیس اہلکار رفاقت شامل ہیں۔ چند یوم پہلے میاں بیوی کے ساتھ بدسلوکی اور ہراساں کرنے پر تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں دو پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق ایک شہری علی حسن نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اورنج لائن سٹیشن لینے گیا تو وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے انہیں بلاوجہ روک کر بدسلوکی کی اور نازیبا الفاظ استعمال کئے، ان میاں بیوی کو ہراساں کیا اور دونوں اہلکاروں کی نیم پلیٹ پر شاہد اور مصطفےٰ کے نام درج تھے اس موقع پر شہری نے15 پر امداد کیلئے کال کی پولیس کے پہنچنے پر اہلکار مصطفی کو موقع پر پکڑ لیا گیا جبکہ شاہد فرارہو گیا۔ قلعہ گوجر سنگھ پولیس نے شہری کی مدعیت میں دونوں نامزد ملزموں کے خلاف دفعات 354(خاتون کو ہراساں کرنے) 170 سرکاری ملازم کا رروپ دھارنے اور 171 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

اسی روز اسی خبر نگار کی رپورٹ میں لاہور میں ڈاکو راج کی سرخی کے تحت رپورٹ دی گئی ہے کہ شہر میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں کے دوران شہری لاکھوں روپے، طلائی زیورات،موبائل فون،موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں سمیت دیگر سامان س محروم ہو گئے۔ لوئر مال روڈ پر تیمور چار لاکھ35 ہزار روپے، موبائل فون مناواں میں نواب الدین سے چار لاکھ 15 ہزار روپے اور موبائل فون،گڑھی شاہو میں مظہر سے چار لاکھ روپے،نصیر آباد اور نولکھا میں د و افراد سے بھی تین تین لاکھ روپے چھین لئے گئے، ہربنس پورہ اور کاہنہ سے گاڑیاں اور لٹن روڈ سے موٹر سائیکل چوری ہوئیں۔