پاکستان میں جمہوریت کا سفر 78 برس سے ڈولتا، ڈگمگاتا جاری ہے۔ پاکستان ریلوے کی ٹرینوں کی طرح ”پٹری سے اترتا“ ہی رہتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے انتخابات کروائے اور ظفر اللہ جمالی کو وزیراعظم بنایا تو کس نے سوچا تھا کہ وہ اپنی مدت پوری نہیں کر سکیں گے اور شوکت عزیز کیلئےجگہ خالی کرنی پڑے گی۔ پیپلز پارٹی نے 2008ء میں حکومت بنائی تو یوسف رضا گیلانی کو دیکھ کر یہی لگا کہ یہ تو پانچ سال پورے کریں گے، لیکن انہیں گھر بھیجا گیا اور قرعہ فال راجہ پرویز اشرف کے نام نکلا۔ 2013ء میں نواز شریف تیسری مرتبہ سنگھاسن پر براجمان ہوئے تو اُمید یہی تھی کہ پانچ سال پورے ہوں گے لیکن ان کے نصیب میں بھی گھر جانا لکھا تھا۔ پھر شاہد خاقان عباسی وزیراعظم ہاؤس کے مکین بنائے گئے۔ قیدی نمبر 804 کی حکومت کا تختہ الٹ کر ”پنجاب سپیڈ“شہباز شریف نے اقتدار سنبھالا۔ شہباز شریف نے 2024ء میں الیکشن ”جیت تو لیا“ مگر یہ نہیں پتہ تھا کہ دو سال کے بعد ان کی رخصت کا کھیل بھی شروع ہو جائے گا اور اب تو لگتا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے۔ آج یا کل نہیں تو چند دنوں میں کچھ ہونے والا ہے۔ اس کچھ کی امید میں ”کئی مسافر سامان باندھے“ تیار بیٹھے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ ”کولیشن حکومت“ کیلئےآئیڈیل پارٹنر نہیں تھے لیکن حالات اور ”انہوں“ نے انہیں مجبور کر دیا۔ گلگت بلتستان الیکشن میں ”دونوں پارٹنرز“ میں تلخیاں بڑھیں ایک دوسرے کے اوپر ”لفظی حملے“ کیے گئے۔ پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت بن گئی مگر حکومت بنانے کیلئے جو آزاد ارکان درکار تھے۔ انہیں استحکام پارٹی میں شامل کروا کے پیپلز پارٹی کو ”بیساکھیاں مہیا کر کے احسان“ کیا گیا۔ اگلا مرحلہ آزاد کشمیر کے انتخابات کا تھا جہاں پی پی پی کی حکومت تھی۔ لہٰذا پیپلز پارٹی کو امید تھی کہ ”مرضی کے نتائج“ آئیں گے۔ لیکن الیکشن سے کچھ دن پہلے الیکشن ”تین مراحل“ میں کرانے کا ”فیصلہ آ گیا“۔ تاکہ مرضی کے نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ الیکشن مہم کے دوران تلخیاں بڑھتی گئیں اور ساری جماعتیں آمنے سامنے آ گئیں۔ وزیر مواصلات علیم خان نے اسلام آباد مری موٹروے کو مری سے بذریعہ کوہالہ مظفر آباد تک لے جانے کا اعلان کیا تو میاں نواز شریف نے انتخابی جلسے سے خطاب میں مانسہرہ سے مظفر آباد اور میرپور تک دریائے دریائے جہلم کے ساتھ موٹروے بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ موٹروے بن چکی ہوتی اگر انہیں اقتدار سے نہ نکالا جاتا۔ علیم خان نے جواب میں بیان داغ دیا کہ 60 برسوں میں کسی کو یہ موٹروے اور ایئرپورٹ کا خیال کیوں نہیں آیا۔ خواجہ آصف نے جواب میں علیم خان کو اسمبلی کے فلور پر جواب دینے کا اعلان کیا تو علیم خان کے ترجمان رکن پنجاب اسمبلی شعیب صدیقی نے بیان داغا کہ خواجہ آصف 80 سال کی بزرگ عورت سے الیکشن ہار گئے تھے۔ 2018ء میں بھی ”ان“ کی مدد سے ہارا ہوا الیکشن جیتے تھے اور آج ایسا شخص ہمیں عزت اور غیرت کا لیکچر دے رہا ہے۔ بلاول بھٹو نے اعلان کیا کہ یہ الیکشن نتائج قبول نہیں ہیں، دھاندلی کی تو پھر آپ کی خیر نہیں۔ ہم نے مشرف اور ضیا کا مقابلہ کیا تھا۔ ”شیر کے شکار“ کے ماہر ہیں۔ الیکشن چوری کیے تو الٹی گنتی شروع ہو جائے گی۔ میرا مینڈیٹ چوری کیا تو آپ کے ”تخت کیلئے“ آ جاؤں گا۔ بلاول نے ن لیگ کو نسل در نسل دھاندلی کی پیداوار قرار دیا۔ شعلے اگلتے بلاول نے کہا کہ اگر کوئی CM کی کرسی پر ”بیٹھی ہے“ اور کوئی PM کی کرسی پر ”بیٹھا ہے“ تو یہ ووٹ کی وجہ سے نہیں فارم 47 کی وجہ سے ہے۔ بلاول نے مزید آگ اگلتے ہوئے کہا کہ ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ قومی مفاد اہم ہے یا ن لیگ کے مفاد کو تحفظ دینا ہے۔ بلاول کے ”بیان کی تپش“ بہت دور تک گئی اور بلاول کو اگلے ہی دن وضاحت کرنا پڑی کہ فوج ہماری ریڈ لائن ہے اور جو ریاست کی بات کی تھی اس سے مراد اسٹیبلشمنٹ نہیں تھی۔ ہم تو کشمیر کو جنت بینظیر بنانا چاہتے ہیں۔ بلاول نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شکست کے بعد ن لیگ نے کشمیر میں دھاندلی کی ہے۔ انہوں نے خود جلسہ میں عوام سے نعرے لگوائے ”سلیکٹیڈ الیکشن نامنظور، جعلی الیکشن نا منظور“۔ بلاول بھٹو کے بعد پی پی پی کے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا ہمارے پاس دھاندلیوں کے ویڈیو ثبوت بھی موجود ہیں۔ بلاول کو جواب دینے کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز خود میدان میں آئیں اور کہا پیپلز پارٹی دھاندلی کی ماسٹر ہے اور دھاندلی کا رونا رو رہی ہے۔ انہوں نے ایک طنزیہ جملہ بھی کہا ”قیامت کتنے بجے ہے“؟ مریم نواز نے کہا آپ (بلاول) کے پاس کوئی کارکردگی ہوتی، عوام کے لئے ایجنڈا ہوتا تو لوگ آپ کو ووٹ دیتے۔ 18 سال میں سندھ میں کچھ نہیں کیا اپنی شکست تسلیم کریں اور سندھ جا کر اپنی کارکردگی بہتر کریں۔ الیکشن تو خود پی پی کی حکومت نے کرائے ہیں۔ پھر بھی دھاندلی کا الزام لگاتے ہیں۔ بلاول کی زبان سن کر بے حد افسوس ہوا ہے۔ سندھ کے وزیر شرجیل میمن بھی اس موقع پر مریم نواز کو جواب دینے میدان میں اُترے انہوں نے کہا کہ ”قیامت تو 2024ء“ میں آئی تھی۔
اس جنگ و جدل کے بعد دونوں پارٹیوں کے سینئر رہنماؤں کی ایک ملاقات کشمیر میں ہو چکی ہے جس میں پیپلز پارٹی کی طرف سے وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور، سینئر رہنما نیئر بخاری، قمر زمان کائرہ اور ندیم افضل چن شامل تھے جبکہ مسلم لیگ ن کی طرف سے رانا ثناء اللہ اور امیر مقام اس ملاقات میں موجود تھے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ماحول کو ٹھنڈا کیا جائے، لیکن ابھی انتخاب کا دوسرا اور تیسرا مرحلہ باقی ہے۔ دوسرے مرحلے کا نتیجہ آج آ چکا ہو گا۔ یہ مرحلہ آزاد کشمیر کی پاکستان میں موجود 12 سیٹوں پر ہوا ہے، جس کے نتائج پر زیادہ شعلے بھڑکنے کا امکان ہے۔ دیکھتے ہیں یہ آگ ”کس کس“ کو جلاتی ہے۔

