سرگودھا کی نوجوان باکسر فاطمہ ثنا نے گلاسگو میں باکسنگ کے مقابلے میں کانسی کا تمغہ حاصل کرکے دولت مشترکہ کھیلوں میں بلند اُمیدیں لیکر جانے والے پاکستانی سکواڈ کو منہ چھپا کر واپس آنے سے بچا لیا۔ ورنہ انہیں بھی رات کے اندھیروں میں منہ چھپا کر واپس آنے والے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی طرح ماسک سے ”منہ ڈھانپ“ کر واپس آنا پڑتا۔ (کرونا کے بعد ”ماسک“ نے یہ آسانی تو پیدا کر ہی دی ہے)۔ دولت مشترکہ کھیلوں میں شرکت کے لئے پاکستان کا قومی دستہ گلاسگو (سکاٹ لینڈ) گیا تو پورے ملک کو اُمید تھی کہ اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتنے والے ارشد ندیم ایکبار پھر طلائی تمغہ جیت کر آئیں گے۔ لیکن ارشد ندیم سکاٹ لینڈ کی ”سردی سے شکست“ کھا گئے (ان کے بقول وہ پاکستان کی سخت گرمی سے سکاٹ لینڈ پہنچنے کے بعد وہاں کی سردی کا مقابلہ نہیں کر سکے)۔ حالانکہ جیولین تھرو میں سری لنکا کے کھلاڑی نے طلائی تمغہ جیتا اور وہ بھی کسی ٹھنڈے ملک سے نہیں سری لنکا کی حبس زدہ گرمی سے نکل کر سکاٹ لینڈ پہنچا تھا۔ باکسر فاطمہ ثنا نے دولت مشترکہ کھیلوں میں کانسی کا تمغہ حاصل کرکے ایک بڑا کارنامہ انجام دیا ہے جو پاکستان کی کوئی خاتون ایتھلیٹ اس سے پہلے انجام نہیں دے سکی تھی۔ فاطمہ ثنا کو پاکستان واپسی پر حکومت پاکستان کی طرف سے 20 لاکھ روپے کی انعامی رقم ادا کی گئی جو یقینی طور پر پاکستان کی کھیلوں میں تمغہ جیتنے والوں کے لئے حکومتی پالیسی کا حصہ ہے، لیکن اصل بات یہ ہے کہ پاکستان میں صحافیوں،بیورو کریٹوں، سیاستدانوں، کورنش بجا لانے والوں کو تھوک کے حساب سے نشانِ امتیاز، تمغہ امتیاز، ہلالِ امتیاز، تمغہ حُسن ِ کارکردگی بانٹنے والوں کو یہ کھلاڑی کیوں یاد نہیں آتے۔ (صدرِ مملکت جناب آصف زرداری اور جناب وزیراعظم میاں شہباز شریف سے ایک سوال ضرور ہے اِس کا جواب ان پر لازم نہیں ہے)۔ ویسے یاد آیا صدر آصف علی زرداری نے ارشد ندیم کو خصوصی تقریب میں ہلالِ امتیاز سے نوازا تھا۔
فاطمہ ثنا کا کانسی کا تمغہ اس لئے بہت اہم ہے کہ یہ گلاسگو دولت مشترکہ کھیلوں میں حاصل کیا گیا پاکستان کا واحد تمغہ ہے۔پاکستان نے 1954ء میں دولت مشترکہ کھیلوں میں پہلی مرتبہ حصہ لیا تھا اور 1954ء سے 2026ء تک پاکستان نے منعقد ہونے والی 23 دولت مشترکہ کھیلوں میں سے 15 میں شرکت کی ہے اور صرف 83 تمغے جیتے ہیں، جس میں 27 طلائی، 27 چاندی کے اور 29 کانسی کے تمغے شامل ہیں۔ پاکستان نے سب سے بہتر کارکردگی 1962ء میں پرتھ میں ہونے والے دولت مشترکہ کھیلوں میں دکھائی جہاں پاکستان نے آٹھ طلائی تمغے اور ایک کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ 1970ء میں ایڈن برگ میں ہونے والی دولت مشترکہ کھیلوں میں پاکستان نے چار طلائی، تین چاندی اور تین کانسی کے تمغوں سمیت کل 10تمغے حاصل کیے۔ 1966ء میں کنگسٹن (جمیکا) میں ہونے والے دولت مشترکہ کھیلوں میں پاکستان نے چار طلائی، چاندی کا ایک اور کانسی کے چار تمغوں سمیت کل نو تمغے حاصل کیے۔ 1958ء میں کارڈیف میں ہونے والی دولت مشترکہ کھیلوں میں پاکستان نے تین طلائی، چاندی کے پانچ اور کانسی کے دو تمغے (کل دس تمغے) حاصل کیے۔ دولت مشترکہ کھیلوں میں پاکستان نے سب سے زیادہ 46 تمغے ریسلنگ میں حاصل کیے ہیں، جن میں 21 طلائی تمغے بھی شامل ہیں۔
اولمپکس میں پاکستان صرف 11 تمغے حاصل کر سکا ہے۔ جس میں چار طلائی تمغے، تین چاندی کے تمغے اور چار کانسی کے تمغے شامل ہیں۔ ان تمغوں میں سب سے زیادہ حصہ ہاکی ٹیم کا ہے۔ جس نے تین طلائی، تین چاندی اور دو کانسی کے تمغے جیتے تھے۔ ایتھلیٹکس میں واحد طلائی تمغہ ارشد ندیم نے 2024ء میں جیتا جبکہ باکسنگ اور ریسلنگ میں کانسی کے دو تمغے پاکستان نے جیتے ہیں۔ محمد بشیر نے ریسلنگ میں 1960ء اور حسین شاہ نے 1988ء میں باکسنگ میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔ 1984ء میں پاکستان نے لاس اینجلس میں ہاکی کا آخری طلائی تمغہ جیتا تھا جبکہ آخری کانسی کا تمغہ 1992ء میں جیتا تھا۔ 1984ء کے بعد 2024ء میں یعنی 40 سال بعد ارشد ندیم نے پاکستان کو طلائی تمغہ دلوایا۔کھیلوں کے تیسرے اہم ترین مقابلوں ایشین گیمز میں پاکستان اب تک 207 تمغے حاصل کر چکا ہے جس میں 44 طلائی تمغے، 64 چاندی کے تمغے اور 99 کانسی کے تمغے شامل ہیں۔ پاکستان نے سب سے زیادہ 28 تمغے جکارتا میں 1962ء میں جیتے جس میں آٹھ طلائی تمغے بھی شامل تھے۔ اِس سے پہلے 1958ء میں ٹوکیو میں ہونے والے کھیلوں میں پاکستان نے 26 تمغے جیتے تھے جس میں 6 طلائی تمغے شامل تھے۔ کالم کی ابتدا چونکہ دولت مشترکہ کے کھیلوں سے ہوئی تھی اس لئے ان کھیلوں میں بھارت کے حاصل کیے تمغوں سے اپنے تمغوں کا مقابلہ کیا تو پتہ چلا کہ بھارت نے گلاسگو میں سونے کے 13 تمغے حاصل کیے جس میں خواتین نے 8طلائی تمغے جیتے ہیں۔بھارت اب تک دولت مشترکہ کے کھیلوں میں 603 تمغے جیت چکا ہے، جن میں 216 طلائی تمغے، چاندی کے 207 تمغے اور 180 کانسی کے تمغے شامل ہیں۔ بھارت نے گلاسگو میں کل 39 تمغے جیتے جن میں 13 طلائی، 17 چاندی اور نو کانسی کے تمغے شامل تھے۔بھارت کی اس کارکردگی کو دیکھ کر اور اپنی 78 سالہ کارکردگی دیکھ کر یقینا شرم آئی، شاید کھیل کا فروغ اور دنیا میں نام پیدا کرنے والے کھلاڑی تیار کرنا ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔
بھارتی ایتھلیٹ پی ٹی اوشا کا نام کھیلوں سے محبت کرنے والوں کے دلوں اور یادداشتوں سے یقینا غائب نہیں ہوا ہو گا۔ پی ٹی اوشا نے 1992ء اولمپکس میں طلائی تمغے سمیت مختلف کھیلوں کے مقابلوں میں کئی تمغے جیتے۔ یہی پی ٹی اوشا آج بھارتی اولمپکس ایسوسی ایشن کی سربراہ ہیں۔ بھات کی ریاست منی پور کی کسان فیملی سے تعلق رکھنے والی میری کوم 8 مرتبہ ایمیچور باکسنگ میں عالمی چمپئن رہیں۔ لندن اولمپکس میں کانسی کا تمغہ، 2014ء ایشین گیمز میں طلائی تمغہ جیتا۔ میری کوم آج بھارتی راجیہ سبھا (سینٹ) کی ممبر ہیں۔ گلاسگو میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی فاطمہ ثنا کی آئیڈیل میری کوم ہے۔ فاطمہ ثنا بھی ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ اس بچی کی سرپرستی کون سی ایسوسی ایشن کرتی ہے۔پاکستان میں وزیر اعظم کو اولمپک ایسوسی ایشن کا سربراہ بنایا جاتا رہا۔ 1978ء میں سید واجد علی شاہ نے اولمپکس ایسوسی ایشن سنبھالی اور 2004ء تک وہ اس کے سربراہ رہے۔ 2004ء میں لیفٹنٹ جنرل عارف حسن اس سیٹ پر براجمان ہوئے اور 2024ء تک انہوں نے یہ سیٹ سنبھالے رکھی۔ بات یہ ہے کہ جب ایسے لوگ جنہوں نے کھیلوں کیلئے کچھ نہیں کیا اولمپک ایسوسی ایشن کی سربراہی اپنا حق سمجھ کر اس پر برسوں قابض رہیں گے تو ان کی ترجیحات کیا ہوں گی؟جب تک کھلاڑی ترجیحات نہیں بنیں گے پاکستان میں کھیلوں کی ترقی نہیں ہو سکے گی۔

