کینیڈا امریکا مذاکرات: قومی مفاد میں متحد ہوکر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے:قیصر ڈار

اوٹاوا(نمائندہ خصوصی) کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین اشیا پر نئے 50 فیصد ٹیرف کے نفاذ کے بعد وزیراعظم مارک کارنی نے امریکا کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات معطل کرنے اور اپنی مذاکراتی ٹیم واپس بلانے کا اعلان کردیا۔

اسی صورتحال کے تناظر میں لبرل پارٹی آف کینیڈا (اونٹاریو) کے چیئر قیصر ڈار نےقومی مفاد میں متحد ہوکر آگے بڑھنے کی ضرورت ہےاور تعمیری مذاکرات جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔قیصر ڈار کا کہنا ہے کہ کینیڈا اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کے حوالے سے سیاسی سطح پر مختلف آرا اور جذبات سامنے آرہے ہیں، ایسے وقت میں ضروری ہے کہ صورتحال کو تحمل، اتحاد اور جمہوری اداروں کے احترام کے ساتھ دیکھا جائے۔

کینیڈا کو امریکا کے ساتھ تعمیری انداز میں مذاکرات جاری رکھنے چاہئیں تاکہ ایسا منصفانہ، متوازن اور باہمی مفاد پر مبنی معاہدہ طے پاسکے جو کینیڈا کے مفادات کا تحفظ کرے اور ساتھ ہی اپنے قریبی ہمسایہ اور دیرینہ شراکت دار امریکا کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کو بھی تسلیم کرے۔قیصر ڈار نے کہا کہ سیاسی خیالات مختلف ہوسکتے ہیں، تاہم ایک مضبوط، خوشحال اور پراعتماد کینیڈا کے مشترکہ مقصد پر سب متحد ہوسکتے ہیں۔

قیصر ڈار کا کہنا تھا کہ ہمیں وزیراعظم مارک کارنی اور ان کی مذاکراتی ٹیم کو کینیڈا کے بہترین مفاد میں بات چیت کیلئےضروری اعتماد اور موقع دینا چاہیے اور ان کی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کینیڈا کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ایک منصفانہ معاہدے کے حصول اور ایسا مضبوط و بااحترام تعلق قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جو دونوں ممالک کیلئےفائدہ مند ہو۔قیصر ڈار نے کہا کہ آخرکار کینیڈا کی طاقت اسی میں ہے کہ کینیڈین متحد ہو کر اپنے ملک کیلئے کھڑے ہوں۔