……ہائے اس زود پشیمان کا پشیمان ہونا!

ہم بھی کیا لوگ ہیں کہ کسی بڑے حادثے کے منتظر رہتے ہیں اور جب ایسا ہو تو ہڑبڑا کر آنکھیں کھولتے، کچھ عرصہ جاگتے اور پھر سو جاتے ہیں۔ کراچی کے گل پلازہ میں آگ کا بڑا حادثہ ہوا تو جاگے معلوم ہوا کہ کراچی جیسے بڑے شہر کیلئے فائر بریگیڈ کا نظام ناکافی اور پرانا ہے جبکہ زمانہ بہت دور جاچکا اور اب آگ بجھانے کے لئے جدید تر آلات آچکے ہیں، کچھ عرصہ شور ہوا۔ تحقیقات اور انکوائری کے اعلانات اور کام ہوئے، نتیجہ صفر رہا، البتہ حکومت نے مرحومین کے لواحقین کو ”خون بہا“ ادا کیا اور دکان داروں کے لئے متبادل روزگار کے انتظام کی کوشش کی۔ فائر بریگیڈ دستوں میں کمی اور خرابی دور ہوئی تاحال کوئی اطلاع نہیں۔

اب اسلام آباد جو وفاقی دارالحکومت اور وزراء کے ساتھ بڑے بڑے بابوؤں کا شہر ہے، اس شہر کے سب سے بڑے درجہ اول کے ہسپتال ”پمز“ کی نرسری میں آگ لگی اور چودہ ایسی معصوم اور ننھی جانیں بھسم ہو گئیں جنہوں نے آنکھ کھول کر دنیا تو کیا اپنے والدین کا گھر بھی نہ دیکھا، اس افسوسناک اور دکھ بھرے سانحہ پر پھر آنکھیں کھلیں، بیانات کا دروازہ کھل گیا۔ تعزیت کا سلسلہ شروع ہو گیا لیکن ہوشربا انکشاف یہ ہیں کہ نہ صرف پمز بلکہ ملک بھر کے دیگر تمام ہسپتالوں میں بھی ایسے آلات نہیں ہیں جن کی بدولت نہ صرف آگ بلکہ کسی اور حادثے سے محفوظ رہاجا سکے۔

چودہ ننھی جانوں نے صوبوں کو بھی خبردارکر دیا اور تحقیق سے معلوم ہو گیا کہ ہر جگہ بُرا حال ہے اور یہ جان کر دکھ ہوا کہ کسی بھی ہسپتال کے پاس آگ بجھانے کے مکمل آلات نہیں ہیں اور اگر ہیں تو قابل استعمال نہیں ہیں، ایک حد تک ہسپتالوں میں آگ بجھانے کی ابتدائی کوشش والے سلنڈر تو ہیں لیکن پانی والے پائپوں کا نظام نہیں اگر پائپ ہیں تو ان کے لئے پانی کا کنکشن نہیں، صحت کی بیٹ کرنے والے رپورٹر حضرات نے بھی شاید ادھر کبھی توجہ نہ دی ہوگی اگرچہ ذرا غور کیا جائے تو ہمارے ہسپتالوں کی تعمیرمیں ہی یہ نقص موجودہے کہ ہنگامی حالات سے کس طرح نبردآزما ہونا ہے۔

غنیمت ہے کہ اب صوبوں کو بھی ہوش آ گیا اور ہدایات جاری کی گئیں کہ نہ صرف آگ بجھانے کے ہنگامی آلات مکمل اورکارآمد بنائے جائیں بلکہ آگ یاکسی اور حادثے کے حوالے سے غور کرکے حفاظتی انتظامات موثر بنائے جائیں۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ کی طرف سے جو ہدائت کی گئی وہ ایک قدم آگے ہے کہ ہر ہسپتال کیلئے قریب تر فائر ہائیڈرنٹ تعمیر کئے جائیں کہ فائر بریگیڈ کیلئے پانی میسر ہو، یہ سب اگرچہ بعد ازوقت (مرگ) ہے تاہم پھر بھی غنیمت ہے کہ خیال آگیا کیونکہ جو ہدایات جاری ہوئی ہیں ان کے مطابق نہ صرف ہسپتالوں بلکہ دفاتر اور بڑی بلڈنگوں کیلئے بھی یہ سب کچھ ہونا چاہیے، ذرا غور کریں کہ کنسٹرکشن کے کاروبار کی ترقی کا یہ عالم ہے کہ ہائی رائز بلڈنگیں بنتی چلی جا رہی ہیں، تعمیراتی نقشے کی منظوری کے موقع پر سب اچھا ہوتا ہے لیکن تعمیر مکمل ہو جانے پر کچھ بھی نہیں رہتا، حتیٰ کہ کارپارکنگ میں بھی دکانیں بنا لی جاتی ہیں اور اگر کوئی پلازہ چل پڑے تو اسکی ہر دکان ایک سے دو ہو جاتی اور فرنٹ پر بھی سامان لاد لیا جاتا ہے۔ اب جو بھی ہوا ہو گیا والدین کا جو حال ہے وہ سب نے دیکھ لیا، اب معاملہ پھر سے انکوائری، انکوائری کھیلنے والا نوٹس لئے گئے اور ان کا جو انجام ہونا ہے اسکے حوالے سے عام شہری بھی جانتا ہے۔

میں نے یہ سب ٹی وی کوریج سے دیکھا اور سنا اور سب جان کر تعجب نہیں ہوا خصوصی طور پر یہ خبر کہ ہسپتال کے عملے کو ہنگامی حالات کی تربیت ہی نہیں ہے۔ ارے بھائی کبھی کسی نے ملازمت کی شرائط میں کسی ایسی تربیت کی شرط دیکھی یا پھر اس کے بعد انتظامیہ کی طرف سے کسی تربیت کا اہتمام پایایہ سب بھی تو آشکار ہو گیا ہے۔ کس کس کا ذکر کریں، یہ بھی کراچی مارکیٹ کی آگ والے معاملے کی طرف چند روز کے بعد ویسے ہی ہوجائے گا کہ دنیا کاکاروبار چلتا رہتا ہے اور اب تو رفتار بھی بہت تیز ہے۔

میں نے عرض کیا کہ یہ سب میڈیا کوریج کی بدولت ہے تاہم سوشل میڈیا نے تو وفاقی وزیر صحت مصطفےٰ کمال کا عمل پوری دنیا کو دکھا دیا ہے کہ ان کے اندر کتنا حوصلہ ہے اور ان کا حقیقی انداز گفتگو کیا ہے۔ سوٹ ٹائی میں ملبوس تووہ بڑے سوبر بابو نظر آتے ہیں لیکن پمز کے باہر خود کو احتساب کے لئے پیش کرنے کے بعد ان کا انداز گفتگو تو خالصتاً بانی والی ایم کیو ایم والا نظر آیا یوں بھی وہ ایم کیو ایم (پاکستان) کی قیادت کے دعوے دار ہیں او راس حوالے سے بھی ان کی باتیں سننے والی ہوتی ہیں، استعفیٰ کے سوال پر تو بھڑک اٹھے حالانکہ دس سے زیادہ بار وزارت کو جوتے کی نوک پر مارچکے ہیں ان کی اس لاف زنی کو وزارت دینے والوں نے بھی نہیں سنااور نہ غور کیا، ویڈیو میں انہوں نے عوام اور رپورٹروں سے جو انداز اپنایا اسے افسوسناک کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔