لاہور (کرائم رپورٹر، جنرل رپورٹر) ہربنس پورہ کے علاقے کینال روڈ پر نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے روزنامہ جنگ کے سینئر صحافی ندیم اقبال کا 16 سالہ بیٹا سعد جاں بحق ہوگیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کردی جبکہ دو ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق سعد اقبال اپنے والد ندیم اقبال کے ہمراہ صحافی کالونی سے موٹر سائیکل پر عدالت پیشی کیلئے جا رہا تھا کہ کینال روڈ پر موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے اس پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ سعد کو چار گولیاں لگیں اور وہ شدید زخمی ہوگیا۔ اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ سابق دشمنی کا نتیجہ ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل ایک اکیڈمی کے باہر ہونے والے جھگڑے میں ایک نوجوان کے قتل کے مقدمے میں سعد نامزد تھا۔ مقتول کے والد ندیم اقبال کا مؤقف ہے کہ ان کے بیٹے کو عدالت مقدمے سے بری کرچکی تھی اور اسے ناحق قتل کیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول کے والد کی درخواست پر عبید علی، آصف علی، زبیر حسن اور نیاز سمیت چار افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمان صبح سے مقتول کے گھر کی نگرانی کر رہے تھے اور موقع ملتے ہی حملہ کردیا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان، عبید علی اور نیاز، کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
سعد اقبال تین بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثا کے حوالے کردی گئی، جس کے گھر پہنچنے پر کہرام مچ گیا۔ مرحوم کی نماز جنازہ آج صبح 9 بجے صحافی کالونی کی مسجد میں ادا کردی گئی۔
لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری، سینئر نائب صدر سلمان قریشی، نائب صدر ناصرہ عتیق، نائب صدر مدیحہ الماس، جنرل سیکرٹری افضال طالب، جوائنٹ سیکرٹری عمران شیخ، فنانس سیکرٹری سالک نواز اور گورننگ باڈی کے دیگر اراکین نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دن دہاڑے ایک صحافی کے بیٹے کا قتل انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام ملزمان کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔

