ہنر مند اور ڈیجیٹل دینی مدارس

ایک دور تھا جب دینی مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ کیلئے مسجد، مدرسہ، امامت، خطابت اور دینی تدریس ہی روزگار کے بنیادی ذرائع تھے، لیکن آج دنیا ایک نئے معاشی ،تکنیکی اور ڈیجیٹل انقلاب کے دور سے گزر رہی ہے جہاں علم کے ساتھ ہنر بھی ناگزیر ہو چکا ہے، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مدارس کے لاکھوں طلبہ ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور انہیں صرف دینی علوم تک محدود رکھنا ، ان کے حق میں بہتر ہے اور نہ ملک کے مفاد میں، اسلام خود علم اور ہنر کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، تاریخ اسلام پر نظر ڈالیں تو مسلمان صرف علماء اور فقہاء ہی نہیں بلکہ سائنسدان، انجینئر، معمار، طبیب، تاجر اور صنعت کار بھی پیدا کرتے رہے ہیں، مسلم تہذیب کی عظمت کا راز یہی تھا کہ وہاں دین اور دنیا کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں بلکہ معاون سمجھا جاتا تھا، آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مدارس میں قرآن، حدیث، فقہ اور عربی علوم کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر ایجوکیشن، انفارمیشن ٹیکنالوجی، الیکٹریکل ورک، پلمبنگ، سولر ٹیکنالوجی، موبائل فون ریپئرنگ، گرافک ڈیزائننگ، ای کامرس، مصنوعی ذہانت اور دیگر فنی و پیشہ ورانہ کورسز بھی متعارف کرائے جائیں، اس سے طلبہ کو صرف روزگار کے مواقع ہی نہیں ملیں گے بلکہ وہ معاشرے کی معاشی ترقی میں بھی فعال کردار ادا کر سکیں گے۔ پاکستان میں بے روزگاری ایک سنگین مسئلہ ہے، ہر سال ہزاروں مدرسہ طلبہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد عملی زندگی میں داخل ہوتے ہیں لیکن ان کے پاس محدود مواقع ہوتے ہیں، اگر انہیں دورانِ تعلیم کوئی فنی مہارت بھی سکھا دی جائے تو وہ خود روزگار اختیار کر سکتے ہیں، چھوٹے کاروبار قائم کر سکتے ہیں اور دوسروں کیلئے بھی روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں، حکومت پنجاب کے زیر غور مدارس رجسٹریشن فریم ورک میں جدید اور فنی تعلیم کے حوالے سے معلومات طلب کرنا ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن محض معلومات جمع کرنا کافی نہیں ہوگا، ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، ٹیوٹا، ووکیشنل ٹریننگ ادارے اور مدارس مل کر ایک ایسا ماڈل تشکیل دیں جس کے تحت مدرسہ طلبہ کو مفت یا رعایتی بنیادوں پر ٹیکنیکل اور فنی تربیت فراہم کی جا سکے، تصور کیجیے کہ ایک حافظ قرآن یا عالم دین اگر کمپیوٹر پروگرامنگ، گرافک ڈیزائننگ، سولر سسٹم انسٹالیشن، ای کامرس یا جدید زبانوں پر بھی عبور رکھتا ہو تو وہ نہ صرف اپنے خاندان کی کفالت بہتر انداز میں کر سکے گا بلکہ دین کی خدمت کیلئےبھی زیادہ خودمختار اور باوقار زندگی گزارے گا، حقیقت یہ ہے کہ آنے والے دور میں صرف ڈگری نہیں بلکہ مہارت کامیابی کا معیار ہوگی، مدارس کو بھی اس تبدیلی کا حصہ بننا ہوگا۔ دینی تعلیم ان کی شناخت اور بنیاد ہے، لیکن فنی اور ٹیکنیکل تعلیم ان کے طلبہ کے مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے، اگر ہم مدارس کے نوجوانوں کو علمِ دین کے ساتھ علمِ ہنر سے بھی آراستہ کر دیں تو وہ صرف اچھے عالم ہی نہیں بلکہ کامیاب، باعزت اور خود کفیل شہری بھی بن سکیں گے اور یہی پاکستان کے روشن مستقبل کی حقیقی بنیاد ہو گی،دوسری طرف خوش آئند بات یہ ہے کہ مدارس بھی اب ڈیجیٹل دور میں داخل ہونے جا رہے ہیں پاکستان میں جب بھی مدارس کی رجسٹریشن، اصلاحات یا نگرانی کی بات ہوتی ہے تو بحث کا ایک نیا دروازہ کھل جاتا ہے، کچھ لوگ اسے ریاستی ضرورت قرار دیتے ہیں، کچھ اسے مذہبی آزادیوں پر قدغن سمجھتے ہیں، جبکہ ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو یہ سوال کرتی ہے کہ آخر وہ ادارے جہاں لاکھوں بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں، کیا ان کے بارے میں ریاست کے پاس مکمل اور مستند معلومات موجود نہیں ہونی چاہئیں؟

حکومت پنجاب نے اب ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جو بظاہر صرف رجسٹریشن کا عمل نظر آتا ہے لیکن درحقیقت یہ صوبے کے دینی تعلیمی نظام کو مکمل طور پر دستاویزی شکل دینے کی کوشش ہے، بتایا گیا ہے کہ حکومت اس بار صرف مدارس کی تعداد جاننے پر اکتفا نہیں کرنا چاہتی بلکہ ان کی مالیات، انتظامی ڈھانچے، تعلیمی سرگرمیوں، انفراسٹرکچر، اساتذہ، طلبہ، غیر ملکی شہریوں اور فنڈنگ کے ذرائع تک ہر پہلو کو ریکارڈ کا حصہ بنانا چاہتی ہے، اگر دیکھا جائے تو دنیا کے تقریباً تمام ترقی یافتہ ممالک میں تعلیمی اداروں کا مکمل ریکارڈ حکومت کے پاس موجود ہوتا ہے، کوئی اسکول، کالج یا یونیورسٹی ایسی نہیں ہوتی جس کے طلبہ، اساتذہ، آمدن، اخراجات اور تعلیمی سرگرمیوں کی تفصیلات متعلقہ اداروں کے پاس نہ ہوں، پاکستان میں مدارس ایک بہت بڑا تعلیمی نیٹ ورک ہیں جو لاکھوں بچوں کو مفت یا انتہائی کم خرچ پر تعلیم، رہائش اور خوراک فراہم کرتے ہیں، لیکن ان کے بارے میں معلومات کا ایک جامع اور یکساں نظام آج تک قائم نہیں ہو سکا۔ مجوزہ نظام کے تحت ہر مدرسے کو اپنی زمین، عمارت، رجسٹریشن، گورننگ باڈی، بینک اکاؤنٹس، مالی وسائل، عطیات، غیر ملکی معاونت، اساتذہ اور طلبہ کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی، پہلی نظر میں یہ تقاضے سخت محسوس ہو سکتے ہیں لیکن اگر یہی معلومات کسی نجی اسکول یا فلاحی ادارے سے طلب کی جائیں تو شاید کسی کو اعتراض نہ ہو، اصل توجہ دو نکات پر مرکوز ہے، پہلا مالی شفافیت اور دوسرا سکیورٹی، حکومت چاہتی ہے کہ مدارس کے مالی معاملات دستاویزی شکل میں ہوں اور یہ واضح ہو کہ فنڈز کہاں سے آ رہے ہیں اور کہاں خرچ ہو رہے ہیں،اسی طرح مدارس کو ایک حلف نامہ بھی دینا ہوگا کہ ان کا کسی کالعدم تنظیم، انتہاپسند گروہ یا دہشت گرد سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں ، دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے اس پورے عمل میں علماء کرام ،تنظیم اور وفاق المدارس کو بھی شامل رکھا ہے،یہ بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی اور انتہاپسندی کے موضوع نے مدارس کو غیر ضروری طور پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا، حالانکہ ملک کے ہزاروں مدارس ایسے ہیں جن کا ان سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں اور وہ صرف دینی تعلیم کے فرائض انجام دے رہے ہیں،اس لیے اگر رجسٹریشن کا یہ نظام شفاف، غیر جانبدار اور بلاامتیاز ہو تو یہ مدارس کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے سنجیدہ اور قانون پسند اداروں کی شناخت مزید مضبوط ہوگی۔

پنجاب میں علماء کے معاملات ،دینی مدارس کی اپ گریڈیشن اور مذہبی ہم آہنگی میں بہتری کیلئے حکومت دو ڈاکٹروں ،سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی اور سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ کی تشخیص سے مطمعن دکھائی دیتی ہے،یہ دونوں ڈاکٹر افسران اپنی محنت اور لگن سے اچھے نتائج دے رہے ہیں، مدارس میں جدید تعلیم، کمپیوٹر ایجوکیشن اور فنی تربیت دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید علوم اور ہنر نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کر سکتے ہیں،اگر ایسا ہے تو یہ قدم مستقبل میں مدارس اور عصری تعلیم کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، البتہ کامیابی کا انحصار صرف فارم اور ڈیٹا اکٹھا کرنے پر نہیں ہوگا، اصل امتحان اس بات کا ہے کہ حکومت ان معلومات کو کس مقصد کیلئےاستعمال کرتی ہے،اگر یہ نظام محض نگرانی اور کنٹرول تک محدود رہا تو خدشات پیدا ہوں گے اور اگر اس کے ذریعے تعلیمی معیار بہتر بنانے، طلبہ کی فلاح و بہبود اور مدارس کو قومی تعلیمی دھارے کے ساتھ جوڑنے کی سنجیدہ کوشش کی گئی تو یہ ایک تاریخی اصلاح ثابت ہو سکتی ہے۔