گھر میں گوشت ختم ہوئے کئی روز ہو چکے کہ بہ امر مجبوری گھر میں محبوس رہنے پر مجبور تھا، بچے چکن اور پیزا کے شوقین ہیں کہ دورِ جدید کی پیدائش ہیں، آج صبح خیال ہوا کہ گوشت لے ہی لیا جائے کہ دوکان تک جانے کی ہمت ہو گئی تھی،ویسے بھی گذشتہ روز دیسی ٹینڈے پکوا کر شوق پورا کیا جو 300 روپے فی کلو ملے، معمول کے مطابق محلے والے قصاب کو فون کر کے پوچھا کہ گوشت کے لئے کس وقت آؤں کہ تسلی سے صاف کرا کے لے سکوں۔ جواب ملا! آج تکلیف نہ ہی کریں تو بہتر ہو گا کہ گوشت بک چکا ہے جو آپ لینا چاہیں گے ویسا نہیں ہے، لہٰذا طے ہوا کہ یہ کام کل (ہفتہ) پر چھوڑ دیا جائے۔ یہ عرض کرنے میں کوئی شیخی بگھارنا مقصد نہیں،صرف یہ بتانا ہے کہ میں جس علاقے میں رہتا ہوں اس میں ہم جیسا تنخواہ دار طبقہ اقلیت میں ہے اور اکثریت تاجر بھائیوں کی ہے،جو مہنگائی ہونے(کہ گوشت3200روپے فی کلو ہے) کے باوجود دن کے پہلے حصے میں چھ، آٹھ بکروں کا گوشت خرید کر لے گئے اور یہ صرف ایک دوکان کی بات ہے ورنہ دو دکانیں اور بھی تو ہیں۔
میں نے اپنے گذشتہ روز کے کالم میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے اپنے جیسے تنخواہ دار سفید پوش طبقے کی بات کی تھی جن کی تنخواہ میں ہر ماہ کمی ہوتی چلی جا رہی ہے کہ اضافہ تو سال میں ایک بار اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مطابق ہو گا، لیکن مہنگائی ہر ماہ بڑھ جاتی ہے اور یوں اخراجات آمدنی سے بڑھ جاتے ہیں۔ہم اپنے گھر کے تین بالغ فرد ہیں اور تینوں الگ الگ ملازمت کرتے ہیں یوں تین افراد کی آمدنی سے گھر چلتا ہے اس میں دو بچوں کی فیسیں اور کتابوں سمیت سکول کے اخراجات شامل ہیں جو نہ ہی بتائے جائیں تو بہتر ہے کہ بچے کسی خالص نجی ادارے میں زیر تعلیم نہیں ہیں۔ایک اچھے ٹرسٹ سکول میں پڑھتے ہیں اس کے باوجود اخراجات کی تفصیل ہمیں امیر ثابت کرے گی کہ مجبوراً بچوں کی بہتر تعلیم کیلئےیہ برداشت کرنا ضروری ہیں اور بچے صرف دو ہی اچھے کے مطابق دونوں (ماشاء اللہ) پوتے ہیں۔
گذشتہ روز(جمعرات) سوشل میڈیا نے تو خوفزدہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی لیکن حکمران بھی شاید ہم عوام کی نفسیات سے کھیلتے ہیں،وزیراعظم نے پہلے غریب، غرباء موٹر سائیکل والوں کیلئےسبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کر دی، جس کی تقلید صوبائی سطح پر بھی کی گئی، (سبسڈی کو حوالے سے شکایات کا بھی جائزہ لے لیں) اِس کے بعد پٹرولیم کے نرخ بڑھانے کا اعلان کیا گیا،اب پٹرول 6روپے51 پیسے فی لیٹر کے اضافے کے بعد سرکاری طور پر399 روپے 81 پیسے فی لیٹر ہوا لیکن پٹرول پمپوں پر اس کے نرخ 401 روپے سے بھی زیادہ ہیں اسی طرح گذشتہ ہفتے اور اس سے قبل ڈیزل کے نرخ میں جو رعایت دی گئی اسے اِس بار برابر کر دیا گیا ہے اور یوں ڈیزل کے نرخ بھی پٹرول کے برابر ہو گئے ہیں اور یہ بوجھ بالآخر صارفین پر ہی منتقل ہونا ہے، لوگ احتجاج بھی کر رہے ہیں،جو سڑک پر نہیں سکرین پر نظر آتا ہے کہ اب تو عوام میں سکت بھی نہیں رہی اور نہ ہی کوئی ایسی جماعت اور لیڈر شپ ہے جو عوامی فریاد حکمرانوں کے کانوں تک پہنچا سکے، اِس لئے سب کڑوا گھونٹ پینے پر مجبور ہیں اور منافع خور مزے میں ہیں کہ بکرے کا گوشت صبح صبح خرید کر لے جاتے ہیں۔
یہ مانا اور عوام بھی محسوس کرتے ہیں کہ یہ مسائل و مصائب ہماری حکومت کا کیا دھرا نہیں، یہ سب ٹرمپ صاحب کی ٹرمپیاں ہیں جو نت نئے منصوبے اور لطیفے بناتے رہتے ہیں۔جیسے اب انہوں نے آبناء ہرمز کا نام اپنے نام سے موسوم کر دیا ہے اور ایرانی لیڈر شپ کو چھیڑا ہے،اس کے علاوہ وہ بدستور ایران (آبناء ہرمز) کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں، دنیا کی توجہ اس طرف مرکوز ہے کہ ہر ایک کی معیشت کو دھچکا لگا ہے لیکن اس مہم کے پس منظر نے اپنی ٹرمپ کی حقیقی ٹرمپنی یہ ہے کہ صہیونی حکومت کو روکا نہیں۔ادھر سے غزہ پر نسل کشی کا سلسلہ تو رکا ہی نہیں تھا کہ لبنان بھی نشانے پر ہے خود امریکہ نے فریقین کی موجودگی میں جنگی بندی کرائی۔ اسرائیل نے معمول کے مطابق عمل نہیں کیا،لیکن اس کی سرزنش نہیں کی گئی۔ اقوام متحدہ میں ایران نے شکایت کی اور پاکستانی مندوب نے اپنے اصولی موقف کا پھر سے اعادہ کیا،لیکن اس سے فائدہ کیا ہوا کہ اقوام متحدہ کا یہ پلیٹ فارم امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھوں عملی طور پر بیکار ہو کر رہ گیا ہے اور اب اس کی تدفین باقی رہ گئی ہے کہ اس کا حال بھی لیگ آف نیشنز والا ہو گا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اعلان کیا کہ وہ اقوام متحدہ کے ایک ڈائریکٹر کو جائزہ لینے کے لئے بھیج رہے ہیں جو نہ صرف ایران اور متاثرہ ممالک کا دورہ کریں گے بلکہ مصالحت کنندگان سے بھی مل کر حالات معلوم کریں گے اور رپورٹ پیش کریں گے۔اس رپورٹ پر کیا ہو گا اس کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں۔
آج بات کرتے ہوئے میرے سامنے امریکی صدر ٹرمپ کا وہ فرمان ہے، جس میں انہوں نے سب کچھ دہراتے ہوئے یہ فیصلہ صادر کر دیا ہے کہ ایران کو ہتھیار ڈالنا ہوں گے اور ایرانی جواب پھر وہی ہے کہ خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں، چنانچہ بات جہاں تک پہنچی وہاں تک رُکی ہوئی ہے ایران جھکنے کو تیار نہیں، بلکہ پاسداران کی طرف سے تو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ایران پر اب حملہ ہوا تو ایسے ہتھیاروں سے جواب دیا جائے گا جو جارح ممالک کے ہوش اڑا دیں گے جبکہ اس سے قبل اسرائیلی فوج کے سربراہ کی طرف سے دھمکی دی گئی تھی کہ امریکہ اجازت دے تو ایران کی موجودہ قیادت کو بھی ختم کر دیا جائے گا۔(ایرانی جواب نے بھی پریشان کر دیا کہ ایران میں جدید سائنس کی تعلیم بہت ہے اور نوجوان آشنا ہیں،اس لئے خدشہ ہے کہ کوئی جدید تر ہو گا اور پھر امریکہ کو بھی جواز مل جائے گا جو پہلے ہی ایسی دھمکیاں دے رہا ہے اور امریکہ کے ریکارڈ میں ناگا ساکی اور ہیرو شیما بھی ہیں)
دنیا کا ہر فرد یقینی طور پر ان مسائل سے متاثر ہے لیکن مجبور ہے پاکستان بجا طور پر یہ کہہ سکتا اور کہہ رہا ہے کہ اُس کی بھرپور کوشش کی جو اب بھی جاری ہے، لیکن اس جنگ کے حالات نے معیشت کو دو سال تک کا نقصان پہنچا دیا ہے۔ وزیراعظم نے حقیقت بیان کی ہے میں کوئی ماہر معیشت نہیں ہوں لیکن اتنا جانتا ہوں کہ حالات نے سادگی پر مجبور کیا ہے تو پھر اس کا اطلاق ترقیاتی منصوبوں پر بھی کر لیں۔میں حکومتی اخراجات پر سوشل میڈیا والی تنقید نہیں کرتا کہ خود وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ سادگی کا ذکر کرتے ہیں لیکن یہ گذارش بے جا نہیں کہ اب اربوں روپے کے وہ منصوبے ترک کر دیں جو لازمی نہیں ہیں۔ یہ سب اچھے وقت میں ہو جائے گا اس شعبہ میں بھی انتہائی ضروری کام کریں۔ یوں بھی اور کسی کو ہو نہ ہو، ہم جیسے سفید پوش اپنی سرحدوں کے حالات سے ضرور واقف ہیں۔

