اک اور دریا، کھیل اور معاش!

ہمارے ساتھ جو ہونا ہے وہ تو بالکل سامنے ہے امریکی صدر اور ان کے ساتھی ہر صورت ایران کو جھکانے پر تلے ہوئے ہیں کہ صہینیوں کو مکمل تحفظ مل جائے۔ نہ ان کو کامیابی مل رہی اور نہ دنیا کو سکون آ رہا ہے۔پٹرولیم کے نرخ اتنے بڑھ گئے ہیں کہ آج جب حکومت کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات کے نئے نرخوں کا اعلان ہوگا تو یقینی طور پر سفید پوش طبقہ اپنی چھوٹی گاڑیاں بند کرکے اگر بائیسکل پر نہ آیا تو موٹرسائیکل چلانے پر تو مجبور ہو ہی جائے گا، حالانکہ اس صورت میں کپڑوں کی دھلائی بڑھ جائے گی کہ سخت گرمی میں ہیلمٹ عذاب ہوگا اور ایک ہی پھیرے میں سوار پسینے سے شرابور ہو جائے گا۔

مجھے آج اس پر کچھ نہیں لکھنا تھا کہ ملک میں عوام کے بغیر سجے کرکٹ میلے پر لکھنا ہے اور بعض اہم امور کا ذکر کرنا ہے لیکن پٹرولیم کے حوالے سے بات کرنا پڑی۔ اب میری تجویز تو یہ ہوگی کہ اگر حکومت عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو اسے فوری طور پر دفاع کے سوا باقی تمام ترقیاتی منصوبے ترک کر کے یہ رقوم پٹرولیم سے متاثر ہونے کے عمل کو روکنے پر صرف کرنا ہو گی،اگر سڑک پر چلنے کے لئے سواری اور پیٹ بھرنے کے لئے روٹی نہ ہوگی تو ہم گھر بنانے کے لئے سود پر قرضہ لے کر کیا کریں گے، بہت سے ایسے منصوبوں کا ذکر کیا جا سکتا ہے جو حالات حاضرہ میں فضول خرچی میں شمارہوتے ہیں، لیکن بوجوہ ان کا ذکر کئے بغیر حکمرانوں سے اپیل ہے کہ ازخود فیصلہ کرلیں۔

اب اس موضوع پر آتے ہیں جس کا ارادہ کیا ہوا تھا،بی سی پی نے بڑی ہمت اور فرنچائزڈ کے تعاون سے اس میلے کو ملتوی نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور ”سادگی“ والے فارمولے کی روشنی میں عوام کے بغیر ہی میلہ سجا لیا جس کا رنگ پھیکا ہی رہا اب یہ میلہ اپنے اختتام کو ہے تو شائقین کو بھی اجازت دے دی گئی ہے پہلے دونوں مقابلوں میں جو کراچی اور لاہور میں ہوئے۔ رونق تو ہوئی لیکن شرکت بھرپور نہیں تھی،آج (جمعہ) دیکھتے ہیں کہ لاہوریئے اپنا رنگ دکھاتے ہیں یانہیں البتہ اتوار کو تو یقینا قذافی سٹیڈیم بھر ہی جائے گا کہ شائقین کی اکثریت پشاور زلمی کی حوصلہ افزائی کیلئےآئیگی اور کنگ بابر کے نعرے وجن گے کہ اس عالمی شہرت کے کھلاڑی نے تنقید کو الفاظ کی بجائے بیٹ (کھیل) سے جواب دے دیا ہے، میں بچپن اور سکول کے وقت سے کرکٹ کا شائق ہوں اور کم از کم لاہور میں ہونے والے سبھی مقابلے دیکھے اور خود بھی کلب کی سطح پر کرکٹ کھیلی تھی اگرچہ زیادہ عمر سرکلر باغات میں کھیلتے گزری، بہرحال دیرینہ شائق ہونے کے باعث کرکٹ کے عروج و زوال کا بھی شاہدہوں یہ بھی جانتا ہوں کہ ماضی میں بھی کھلاڑی پسند نہ پسند کا شکارہوئے تھے لیکن قومی کرکٹ کو نقصان پہنچانے سے گریز کرنے تھے، تب بھی حمائت و مخالفت ہوتی تھی لیکن یہ کسی سازش یا نفرت کی بناء پر نہیں کھلاڑی کے کھیل کی پسند و ناپسند پر ہوتی تھی، جیسے عمران خان نے منصور کو ممکن سے بھی زیادہ مواقع دیئے لیکن اس بہترین کھلاڑی کے شاید نصیب یاور نہیں تھے کہ قومی کرکٹ سے باہر رنز کے پہاڑ لگاتا لیکن جب بھی قومی ٹیم میں موقع ملا فیل ہو گیا۔ایسا ہی اسلامیہ کالج ریلوے روڈ اور بعد ازاں گورنمنٹ کالج والے اوپنر سلطان کے ساتھ ہوا کہ فرسٹ کلاس میچوں میں تیز رفتار سنچری کرتا، اس بناء پر سکپر عبدالحفیظ کاردار اسے قومی سکواڈ میں موقع دیتے تو وہ فیل ہو جاتا،یہ دونوں ستارے قسمت کے ہاتھوں قومی افق پر نہ چمک سکے تھے۔

یہ ذکر اس لئے کیا کہ ماضی میں پسند ناپسند کھیل کی بناء پر تھی لیکن آج ایک طرف پرچی چلتی تو دوسری طرف حسد ہے یہاں کئی بہترین کھلاڑیوں کا کھیل سازش کے تحت ختم کیا گیا اور اکثر کھلاڑی پرچی نہ ہونے کی وجہ سے اندھیروں میں گم ہو گئے آج کل تو باقاعدہ نفرت کے ساتھ سازشی مہم چلائی جاتی ہے کہا تو جاتا ہے کہ ملک میں ٹیلنٹ بہت ہے لیکن اس کیلئےبھی پرچی کی ضرورت ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا اور کھیل کے میدانوں میں یہ مہم آج بھی موجود ہے کہ ایک محترم ہستی کو بورڈ کے کاروبارسے الگ کر دیا جائے کہ موصوف نے تو بابراعظم جیسے کھلاڑی کو بھی عمر اکمل بنانے کی بھرپور کوشش کی حالانکہ بابر کا موازنہ کوہلی اور ایسے دوسرے عظیم کھلاڑیوں سے ہوتا ہے موصوف جسے میڈیا والے عاقب جاوید کہتے ہیں نے نہ صرف بابر اعظم بلکہ فخر زمان کو بھی باہر بٹھانے پر مجبور کیالیکن ان کھلاڑیوں نے خاموشی سے انتظار کیا اور موقع ملنے پر اہلیت سے جواب دے دیا ہے۔

بابراعظم کے حوالے سے میں نے اِن سطور میں لکھاتھا کہ وہ سازشوں کے حصار میں نفسیاتی دباؤ کا شکار ہے اور اُسے اِس سے باہر آنا چاہیے اور اب اُسے موقع ملا اور پشاور زلمی والوں کی مکمل حمایت اور حوصلہ افزائی سے وہ دباؤ سے باہر نکل آیا ہے۔ میں پی ایس ایل کے تمام میچوں کا ذکر کئے بغیر اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف پلے آف میچ کا ذکر کروں گا۔ بابراعظم کی بیٹنگ کی ویڈیو نکلوا کر دیکھ لیں تو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ بیٹر کی کلاس کیا ہوتی ہے۔ بابراعظم نے پوری اننگ اعتماد اور ہنر کے ساتھ کھیلی۔ اس کی ایک بھی شارٹ غلط نہیں تھی بلکہ اس نے سٹرائیک ریٹ کا بھی جواب دے دیا ہے۔ سنچری تو اس ٹورنامنٹ میں اور بھی ہوئیں لیکن اگر آپ ان کا موازنہ بابراعظم والی سنچری سے کریں تو فرق کاپتہ چل جائے گا۔

دُکھ کے ساتھ یہ بھی عرض کرتا ہوں کہ ماسوا چند ایک سابق کھلاڑیوں کے باقی تجزیہ کرنے والے کھلاڑی تعصب کا شکار نظر آئے اور اپنی پسند ناپسند کو کھیل کا نام دے کر کھلاڑیوں کوگالی دیتے رہے، ہم نے سکپر کاردار کا پورا دور ان کے ساتھ تعلقات کے علاوہ کھیل کی رپورٹنگ بھی کی، لیکن جو آج ہو رہا ہے ایسا کچھ نہیں ہوتا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ محسن نقوی اس لحاظ سے غیر جانبدار ہی ہونگے کہ وہ کرکٹ سے ایسے منسلک نہیں رہے جیسے ان کے پیارے عاقب جاوید ہیں اِسلئےتوقع ہے کہ وہ اس گزارش پر غور کریں گے کہ سازشی گروہ کو بورڈ سے الگ کرکے لاتعلق کردیں اور جو کھلاڑی کھیل ہی کے حوالے سے بات کررہے ہیں، ان سے تعاون حاصل کریں۔

ایک گزارش غیرملکی کھلاڑیوں کی طرف سے تعریف کے حوالے سے ہے،ایک کھلاڑی نے کہا پاکستان کے پاس تیز باؤلروں کا بہت ذخیرہ ہے جسے سنبھال کر استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ اکثر کھلاڑیوں نے بیٹروں کی بھی تعریف کی کہ ٹیلنٹ بہت ہے میری تجویز یہ ہے کہ کرکٹ اکیڈیمی کو بہت فعال کیا جائے۔بہترین ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں اور باؤلنگ کے علاوہ بیٹنگ کے کیمپ لگا کر نوجوانوں کی تربیت کی جائے اور یہ بات سچ کی جائے کہ یہاں ٹیلنٹ ہے اور اب ”پرچی“ نہیں چلے گی۔

جس بات نے کرکٹ پر لکھنے کیلئے اکسایا وہ تو رہ ہی چلی۔ مجھے موجودہ ٹی 20فارمیشن میں آخری راؤنڈ دیکھ کر منیر نیازی بہت یاد آئے جنہوں نے کہا تھا کہ انہیں ایک دریا پار کرنے کے بعد بھی دوسرے دریا کا سامنا ہوا، ایسا ہی پلے آف مرحلے کا معاملہ ہے کہ آج حیدرآباد کنگز کو ایک اور دریا کا سامنا ہوگا کہ وہ ملتان سلطانز کو ہرا کر بھی فائنل میں نہیں پہنچی اور اب اسے اسلام آباد یونائیٹڈ والے دریا کا سامنا ہے جو اپنا میچ ہار چکی ہوئی ہے۔ یہ نظام عجیب ہے جو سیمی فائنل ہارنے والی ٹیم کو پھر ایک موقع دیتا ہے۔