فساد کی جڑ ختم کریں!

دنیا اِس وقت سیاسی اور اس سے بڑھ کر معاشی گرداب میں ہے۔امریکی صدر اور ان کے ساتھیوں کو کوئی فکر اور پرواہ نہیں کہ ان کی اَنا اور خود غرضانہ پالیسی نے عالمی سطح پر کیا اثرات مرتب کئے اور مسلسل ہو رہے ہیں۔ آبناء ہرمز ایک ایسا مرکزی خیال بن چکی، جس کی وجہ سے پوری دنیا کی تجارت متاثر ہو گئی ہے۔ ٹرمپ کا موقف ہے کہ ایران اِس وقت معاشی طور پر بہت بری حالت میں ہے ان کے وزیر کے مطابق تو ایرانی حکومت کے پاس ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لئے بھی رقم نہیں ہے۔اس پر امریکہ کی طرف سے ایران کے ساتھ تعلق رکھنے والے اداروں اور کمپنیوں پر مزید پابندی لگائی جا رہی ہیں تاکہ ایران بھی سوویت یونین کی طرح ٹوٹ کر بکھر جائے اسی لئے ٹرمپ بار بار یہ توقع دہرا رہے ہیں کہ ایرانی عوام دیکھ رہے ہیں لیکن اُن کی یہ امید تو اُس وقت بھی بر نہ آئی جب ایران میں اسرائیل اور امریکی سپانسرڈ شدید احتجاج ہو رہے تھے اور امریکی صدر کھلم کھلا عوام کو بغاوت پر آمادہ کر رہے تھے اس میں ناکامی کے بعد ہی ایران پر باقاعدہ حملہ کرنا پڑا اور یہ بھی مشترکہ حملہ تھا، لیکن نیلے آسمان نے بھی حیرت سے دیکھا کہ ایران میں بغاوت تو کیا ہوتی وہاں ایک نیا جذبہ بیدار ہو گیا اور قوم گھروں سے باہر نکل کر سڑکوں پر آ گئی اور موت کے خوف کو بھی دور دھکیل دیا۔امریکیوں کو شاید اب تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ ایسا کیوں ہوا، کیونکہ ٹرمپ تو اب بھی یہی آس لگائے بیٹھے ہیں کہ لوگ برسر اقتدار حضرات کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں گے، لیکن وہ نہیں جانتے کہ یہ سب عقیدے کا مسئلہ ہے اگر تو یہ تنازعہ صرف امریکہ کے خلاف ہوتا تو ممکن ہے کہ ایران میں لبرل خیالات کے حضرات برسر اقتدار پر تنقید کرتے یہ اب اس لئے نہیں ہو رہی کہ امریکہ نے یہ جنگ اسرائیل کے تحفظ کے لئے چھیڑی ہے جسے پوری دنیا کے عوام نے تو مسترد کیا ہی تھا اب یورپی حکومتوں کی طرف سے بھی اعتراض اور مخالفت شروع ہو گئی ہے۔

یہ سب امریکی صدر کی غیر متوازن(مبینہ) طبیعت اور مزاج کے باعث ہے اور یا پھر وہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت معاشی دباؤ بڑھا رہے ہیں کہ یورپ کو بھی سبق مل جائے اور عملی طور پر ایسا ہو رہا ہے۔ اب صدر ٹرمپ نے مذاکرات کو بلاوجہ طوالت دینا شروع کی اور آبناء ہرمز کی بندش کو آخری ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں لیکن عجب منظر ہے کہ ایران اس دباؤ کے سامنے جھکنے سے بھی انکار کر رہا ہے۔ جہاں تک مذاکرات کی موجودہ صورتحال کا تعلق ہے تو واقف حال حضرات کا یقین ہے کہ ٹرمپ اور ان کے جنگجو ساتھی نیتن یاہو کے تحفظ کی خاطر بلاوجہ رکاوٹ ڈال رہے ہیں، حالانکہ بات سادہ ہے ایران نے نہ تو ایٹمی صلاحیت کے حوالے سے مذاکرات سے انکار کیا ہے اور نہ ہی ایٹم بم بنانے کا اعتراف، بلکہ ایران کا موقف بالکل واضح ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کا مخالف ہے تاہم اتنی افزودگی ضرور چاہئے کہ توانائی کی ضروریات پوری ہو سکیں اور اب تو ایران نے پاکستان کے توسط سے باقاعدہ تحریری تجویز دے رکھی ہے کہ باقی معاملات پر بات پہلے کر کے طے کر لیا جائے اور ایٹمی صلاحیت پر بعد میں بات ہو جائے گی۔ٹرمپ نے اب یہ موقف اختیار کر لیا کہ پہلے ایٹمی صلاحیت پر بات ہو گی یوں مرغی پہلے یا انڈہ، والی کہانی شروع ہو گئی ہے مجھے حیرت ان ممالک پر ہے جو اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہو کر بھی خود اپنا فیصلہ نہیں کرتے اور اب بھی برائی کی جڑ اسرائیل کے حوالے سے پالیسی تبدیل نہیں کرتے، اِکا دُکا ممالک نے ایسا کیا لیکن ضروری ہے کہ پوری دنیا انصاف کے تقاضوں کی روشنی میں اب اسرائیل کا مکمل بائیکاٹ کر دے،ہمارے بعض مہذب دوستوں کو یہ بھی شکایت ہے کہ وہ مسلم ملک جو اسرائیل کو تسلیم کئے بیٹھے ہیں وہ مل کر یہ سلسلہ ختم کیوں نہیں کر دیتے ؟

(اگر اسے غیر متعلق نہ سمجھا جائے تو ایک پرانی بات کا ذکر کر دوں،یہ 1970ء جولائی کا ذکر ہے جب عام انتخابات سے پہلے شیخ مجیب الرحمان لاہور آ ئے اور میں نے جناب احمد بشیر کی موجودگی میں چودھری برکت علی سلیمی مرحوم کی کوٹھی پر ان سے خصوصی انٹرویو کیا تھا،ان سے چبھتا ہوا سوال مسئلہ کشمیر اور بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کیا تو انہوں نے جواب میں کہا : ہمارے اور آپ کے موقف میں بڑا فرق نہیں آپ کہتے ہیں کہ پہلے کشمیر حل کریں پھر دوستی ہو گی،ہم کہتے ہیں کہ پہلے دوستی کر لو پھر کشمیر سمیت تمام مسئلے حل ہو جائیں گے:)

اِس حوالے سے بات کی جائے تو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی متفقہ جارحیت اور ایران کے جوابی وار کے باعث یہ ثابت ہو چکا ہے کہ امریکی اڈے ان کی حفاظت نہیں کر سکتے یہ سب ایک معاشی اور اقتصادی دھوکا ہے کہ امریکہ نے دنیا پر قبضہ کی خواہش میں اپنی افواج کی روٹی،روزگار کا بوجھ امیر ممالک پر ڈال رکھا ہے اور امریکہ کی بھاری بھر کم افواج اِن ممالک پر بوجھ کی حیثیت اختیار کر گئی ہیں کہ ایران کی جوابی کارروائی کے باعث اِن ممالک کو احتجاج کرنا پڑا جبکہ ایران کا اب بھی یہی موقف ہے کہ اس کی طرف سے امریکی اڈوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔

اب اگرچہ آتشی جنگ تو بند ہے لیکن سرد جنگ نے پوری دنیا کو بلبلانے پر مجبور کیا ہوا ہے۔یورپی یونین کے بعض ممالک اس پر کچھ فیصلے کرنے کے ارادے بھی ظاہر کر رہے ہیں، لیکن تاحال مفادات کے ہاتھوں مجبور ہیں۔

میری عاجزانہ رائے یہ ہے کہ عالمی سطح پر جب تک برائی کی جڑ کو سامنے رکھ کر اسے ختم نہیں کیا جائے گا اُس وقت تک دنیا کی یہ بے چینی ختم نہیں ہو گی اس کے لئے ضروری ہے کہ دنیا صہیونیت کے عزائم کو ناکام بنائے، سارا فساد صہیونیت ہے جو دنیا پر غلبے کا فلسفہ لئے عدم توازن پیدا کرتی چلی جا رہی ہے اس سلسلے میں ہم تو قائداعظمؒ کے فرمان پر صاد کرتے ہیں کہ ”اسرائیل ناجائز ریاست ہے“۔