پکرنگ کے رہائشیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے پراپرٹی ٹیکس کیخلاف درخواست جمع
1620 دستخطوں پر مشتمل درخواست میں ٹیکس فریز، شفافیت اور لازمی عوامی مشاورت کا مطالبہ
پکرنگ،اونٹاریو (نامہ نگار) پکرنگ کے رہائشیوں نے باضابطہ طور پر ایک عوامی درخواست جمع کروائی ہے جس میں شہر پکرنگ میں پراپرٹی ٹیکس میں تیزی سے ہونے والے اضافے کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ 1,620 تصدیق شدہ دستخطوں کی حمایت سے پیش کی گئی یہ درخواست رہائشیوں کی بڑھتی ہوئی مالی مشکلات کی عکاسی کرتی ہے اور بلدیاتی مالیاتی فیصلوں میں زیادہ شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کرتی ہے۔
یہ درخواست آٹھ ماہ قبل معروف کاروباری اور میڈیا پروفیشنل عظمت مجیب نے شروع کی تھی جسے 29 مارچ کو سٹی کلرک کے پاس باضابطہ طور پر رجسٹر کیا گیا۔ 30 مارچ کو رہائشیوں کے ایک وفد نےمئیرکیون ایش سے ملاقات کی اور درخواست پیش کرتے ہوئے اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔

وفد کی قیادت عظمت مجیب اور رازق خورشید نے کی جبکہ دیگر نمایاں کمیونٹی ممبران میں محمد امجد، علی معراج، وسیم اعجاز، اختر جعفری، عبدالرؤف اور شجاع خان شامل تھے۔ درخواست کی ایک باضابطہ نقل، سٹی کلرک کے تصدیقی خط کے ساتھ، میئر کو پیش کی گئی۔ اس ملاقات میں سٹی ٹریژرر اسٹین کارووسکی بھی موجود تھے۔
“درخواست کے اہم مطالبات”میں پراپرٹی ٹیکس میں فوری فریز،آئندہ کسی بھی ٹیکس اضافے سے پہلے لازمی عوامی مشاورت،شہر کے اخراجات میں مکمل شفافیت،لاگت میں کمی کے اقدامات کے واضح شواہد،اضافی فنڈز (سرپلس) کی مکمل تفصیلات، کسی بھی مجوزہ ٹیکس اضافے کی تفصیلی وجوہات،شہر اور رہائشیوں کے درمیان بہتر رابطہ،شہری خدمات اور کارکردگی کی باقاعدہ رپورٹنگ شامل ہیں.
درخواست کے علاوہ رہائشیوں نے”عوامی شمولیت کو مضبوط بنانے کا مطالبہ”بھی کیااور اس بات پر زور دیا کہ پراپرٹی ٹیکس میں کسی بھی مجوزہ اضافے کے حوالے سے شہر کی جانب سے واضح کھلی اور بروقت کمیونیکیشن ضروری ہے۔
وفد نےمزید مطالبہ کیا کہ کسی بھی ٹیکس اضافے سے قبل عوامی ٹاؤن ہال میٹنگز منعقد کی جائیں،مجوزہ منصوبے واضح طور پر پیش کیے جائیں اور ان کی مکمل وضاحت دی جائے،رہائشیوں کو پیشگی اطلاع مختلف ذرائع جیسے ٹیلیفون کالز، روبو کالز اور پراپرٹی ٹیکس نوٹسز کے ذریعے دی جائے.
درخواست دینے والےکمیونٹی لیڈرعظمت مجیب نے کہاکہ”یہ درخواست 1620 رہائشیوں کی آواز کی نمائندگی کرتی ہے اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جو پراپرٹی ٹیکس میں مسلسل اور نمایاں اضافے پر شدید تشویش رکھتے ہیں۔ خاندان مالی دباؤ کا شکار ہیں ،اب وقت آ گیا ہے کہ زیادہ شفاف اور عوامی مفاد پر مبنی حکمت عملی اپنائی جائے۔”
“ہم صرف مسائل کی نشاندہی نہیں کر رہے بلکہ عملی حل بھی پیش کر رہے ہیں۔ اگر بجٹ میں کمی ہے تو شہر کو متبادل ذرائع تلاش کرنے چاہئیں، جیسے کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے معاونت حاصل کرنا، بجائے اس کے کہ سارا بوجھ صرف گھروں کے مالکان پر ڈالا جائے۔”
کمیونٹی رہنمارازق خورشیدکاکہناتھا “رہائشیوں کا حق ہے کہ انہیں ان فیصلوں سے پہلے آگاہ کیا جائے اور ان سے مشاورت کی جائے جو براہ راست ان کی مالی حالت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ کھلی بات چیت اور عوامی شمولیت شہر کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔”
مئیرکیون ایش نے ملاقات کے دوران اٹھائے گئے تمام نکات کو غور سے سنا اور تفصیلی سوال و جواب کے سیشن میں حصہ لیا۔ انہوں نے پیش کیے گئے مسائل کو تسلیم کیا اور وفد کو یقین دلایا کہ ان خدشات کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور آئندہ ان پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔

