امر واقعہ ہے کہ عصر حاضر میں ارضِ وطن کی قومی معاشرتی عمارت کی کوئی ایک اینٹ ہی خراب نہیں، بلکہ ”آوے کا آوا“ ہی بگڑا ہوا ہے ملک بھر کے عوام عرصہ دراز تک چینی کی ہوشربا گرانی اور پھر اُس کی عدم دستیابی پر رو رو کر ہلکان ہوتے رہے، سادہ دِل لوگوں کو یہ حقیقت بھی معلوم نہ ہو سکی کہ ملک میں چینی کی ملوں کی تعداد انکی معلومات سے کہیں زیاد ہے۔ان سادہ دِلوں میں پایا جانے والا یہ تاثر خیالِ خام تھا کہ چینی کی ملوں میں کمی کے باعث غالباً اُنکی پیداوار کھپت کے مقابلے میں کم ہے اسلئے چینی کی دستیابی میں لوگوں کو مشکل پیش آ رہی ہے اب اس عقدہ کو خود شوگر مل مالکان نے طشت ازبام کر کے رکھ دیا ہے۔
انہوں نے پے در پے اربابِ حکومت کو خط لکھے ہیں کہ انکے پاس چینی کا بے پناہ ذخیرہ موجود ہے اسلئے انہیں چینی دوسرے ممالک میں بھیجنے کی اجازت دی جائے۔ اپنے مطلب کی بات پر حکومت کو راضی کرتے ہوئے مل مالکان نے اپنے خط میں حکمرانوں پر واضح کیا ہے کہ ان کی ماہانہ اوسط کھپت پانچ لاکھ 64 ہزار196 میٹرک ٹن ہے اور ہمارے ہاں اسوقت 31لاکھ میٹرک ٹن چینی کا سٹاک موجود ہے انہیں فوری طور پر چھ لاکھ33ہزار ٹن سرپلس چینی کا سٹاک برآمد کرنیکی اجازت دی جائے جبکہ باقی زائد سٹاک سیزن شروع ہونے کے ایک ماہ کے اندر برآمد کرنے کی اجازت ہو۔خط میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ اگلے کرشنگ سیزن میں اسکے آغاز پر 11لاکھ 97ہزار ٹن زائد چینی کا بڑا ذخیرہ موجود ہو گا۔
یہ بات اربابِ حل و عقد کیلئے لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتی ہے کہ ملک میں اسکے عوام کی ضرورت سے کہیں زیادہ شوگر ملیں محض اشرافیہ کو نوازنے کیلئے قائم کرنے کے اجازت نامے جاری کئے گئے ہونگے اس کے نتیجے میں ایک تو ملک میں کپاس کی پیداوار کے علاقوں میں جبری طور پر گنا کاشت کرایا گیا، جس کے نتیجے میں کپاس کے زیر کاشت رقبے میں نمایاں حد تک کمی اور اہم ترین فصل کپاس کی کاشت کیلئے بیکار ہو گیا اب کون نہیں جانتا کہ اثرو رسوخ کی مالک مخصوص اشرافیہ کے شوگر مل مالکان ہی ہیں جنکے انڈیپنڈنٹ پاور پلانٹ ہیں جو باہمی گٹھ جوڑ کی بنیاد پر کئے گئے معاہدے کے مطابق برسوں سے ہر سال بجلی بنائے بغیر کروڑوں روپے ماہوار حکومت سے وصول کر رہے ہیں اور وہی اربوں کی رقم اس ملک کے فاقہ کش عوام سے بجلی کے بلوں سے وصول کی جاتی ہے۔
ملک میں پیدا ہونیوالی اس جنس کا کیا فائدہ جو غربت کے مارے لوگوں کو سستے داموں دستیاب نہ ہو سکے۔اس سے یہ بہتر نہیں کہ آئندہ کیلئے ملک کی زرخیز اراضیات کو عوام کیلئے غیر منافع بخش کارخانوں کے قیام سے محفوظ رکھا جائے۔ اربابِ حکومت کو ایسے قومی اور ملکی مفادات کو اس لحاظ سے بھی ہمیشہ مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ کسی ایسے معاملہ پر غلط فیصلوں کی زد میں عالمی سطح پر اعتراضات کا دروازہ نہ کھلے۔ جیسا کہ قومی خبر رساں ادارے آئی این پی نے اسلام آباد سے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ عالمی بنک نے بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ آبادی کیلئے اپنے اربوں روپے کے ایک رہائشی پروگرام کیلئے دیئے گئے فنڈز کو دوسرے منصوبوں کو منتقل کرنے پر اظہارِ ناراضگی کیا ہے۔
عالمی بنک کی طرف سے خبردار کیا گیا ہے کہ بلوچستان میں ایسے اقدام سے غربت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے ہماری رقوم تو سیلاب سے متاثرہ غریب لوگوں کو رہائشی سہولتوں کی فراہمی کیلئے تھیں جبکہ اِس نوع کے فنڈز کو انفراسٹرکچر کی طرف منتقل کر دیا گیا۔ ورلڈ بنک نے وفاقی اور بلوچستان حکومتوں کو بھیجے گئے ایک تفصیلی مراسلے میں کہا ہے کہ متاثرہ اہل خاندانوں کی سماجی اور معاشی صورتحال کو دیکھا جائے تو خطرہ صرف یہ نہیں کہ یہ خاندان رہائشی سہولتوں سے محروم رہ جائیں گے بلکہ یہ امکانات بھی زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں کہ ایسے خاندانوں کی پہلے سے موجود کمزوریاں ایک دوسرے کو مزید تقویت دینے کا باعث ہوں گی اور وقت گزرنے کیساتھ ساتھ حالات مزید خراب ہوتے چلے جائیں گے، اسی زیر تذکرہ قومی خبر رساں ادارے کی لاہور سے جاری ایک اور قابل ِ ذکر رپورٹ میں پاکستانی اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات کو ہوشر با اضافے سے تعبیر کیا ہے۔
اس رپورٹ میں سیاسی تجزیہ کاروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ قیام پاکستان سے اب تک پاکستان کا معاشی سفر مختلف مسائل کا شکار ر ہا۔ ایک تہائی آبادی خط ِ غربت سے نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے مگر بھاری بھر کم تنخواہوں اور مراعات کے باوجود اکثر اراکین پارلیمنٹ کی کارکردگی عوام کے نزدیک غیر تسلی بخش ہے ایسے حقائق کے ہوتے ہوئے ملک کی اشرافیہ اور اُن کے ہمرکاب اصحاب کو اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی کرنا چاہئے۔ حرص، ہوس اور طمع کے بے نقط الفاظ سے دامن چھڑانا ہو گا!!!

