پاکستان 60+ ٹیم ٹائٹل کے دفاع کیلئے پُرعزم ہے: فواد احمد،ورلڈ کپ جیتنا ہے:اطہر منہاس

برامپٹن (میاں حبیب سے) پاکستان 60+ کرکٹ ٹیم کے کپتان فواد احمد نے کہا ہے کہ ٹیم نے ابتدائی شکست کے بعد مسلسل چار میچ جیت کر وننگ مومنٹم حاصل کرلیا ہے اور اب ہمارا مقصد ورلڈ کپ جیتنا ہے۔

میچ کے بعد خصوصی گفتگو کرتے ہوئے فواد احمد نے کہا کہ ورلڈ کپ کا آغاز ہمارے لئے مایوس کن تھا کیونکہ پہلے میچ میں انگلینڈ سے شکست ہوئی، تاہم اس کے بعد ہم نے مسلسل چار میچ جیتے اور اب وننگ مومنٹم میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا آخری گروپ میچ آسٹریلیا کے خلاف ہے، جو ٹیم یہ میچ جیتے گی وہ گروپ میں ٹاپ کرے گی۔ اس کے بعد دوسرے گروپ سے انگلینڈ یا نیوزی لینڈ میں سے کسی ایک ٹیم کیخلاف سیمی فائنل ہوگا۔

فواد احمد نے کہا کہ جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کو پاکستان نے گزشتہ ورلڈ کپ میں آسٹریلیا میں شکست دی تھی، ہماری اوور 60 ٹیم بہت اچھی ہے اور بیٹنگ لائن بھی مضبوط ہے، امید ہے ورلڈ کپ جیت کر جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 60 سال کی عمر میں جوانی تو نہیں رہتی لیکن تجربہ بہت اہم ہے، ہمارے کھلاڑی بہت سینئر ہیں اور ساجد علی، ظہیر احمد سمیت کئی کھلاڑی فرسٹ کلاس اور ٹیسٹ کرکٹ کھیل چکے ہیں، یہی تجربہ میدان میں کام آرہا ہے۔

کپتان نے کہا کہ ہم دفاعی چیمپئن ہیں، آسٹریلیا میں ہونے والا گزشتہ اوور 60 ورلڈ کپ پاکستان نے جیتا تھا اور ہم اپنا ٹائٹل دفاع کرنے آئے ہیں۔فواد احمد نے بتایا کہ وہ آسٹریلیا میں ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستان ٹیم کے بھی کپتان تھے جبکہ وہ پاکستان سینئرز کرکٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی پوزیشن کی وجہ سے ٹیم میں نظم و ضبط برقرار رہتا ہے اور کھلاڑی بھی احترام کرتے ہیں، ہماری ٹیم میں ڈسپلن کا کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔

قومی کرکٹ ٹیم کے بارے میں فواد احمد نے کہا کہ پاکستان نے اوور 40، اوور 50 اور اوور 60 تینوں عمر کے گروپس میں عالمی سطح پر کامیابیاں حاصل کی ہیں، گلوبل کپ کراچی میں جیتا، اوور 50 ورلڈ کپ گزشتہ سال کولمبو میں جیتا جبکہ اوور 60 ورلڈ کپ بھی پاکستان جیت چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ امید ہے قومی ٹیم کی رینکنگ بھی بہتر ہوگی، پاکستان میں ٹیلنٹ بہت ہے، نئے کھلاڑیوں کو مواقع دینے کی ضرورت ہے۔

اس عمر میں بھی دل سے جوان ہوں، ورلڈ کپ جیتنا ہے:اطہر منہاس

پاکستان 60+ کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی اطہر منہاس نے کہا ہے کہ اس عمر میں سنچری بنانا بہت اچھا لگا، ہم ابھی بھی دل سے جوان ہیں اور ان شاء اللہ پاکستان ورلڈ کپ جیتے گا۔جنوبی افریقہ کیخلاف میچ کے بعد خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اطہر منہاس نے کہا کہ ورلڈ کپ کیلئے کھیلنے کا اپنا ہی جوش ہے، پاکستان کیلئے کھیلنا ان کا خواب تھا جو الحمدللہ پورا ہوگیا اور اب وہ پاکستان کیلئے کچھ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ ان کا تیسرا ورلڈ کپ ہے۔ آسٹریلیا میں پہلا ورلڈ کپ ہوا تھا جو پاکستان نے جیتا، جبکہ دوسرے ورلڈ کپ میں پاکستان کو بھارت نے ویزا نہیں دیا، تاہم پاکستان چیمپئن تھا۔اطہر منہاس نے کہا کہ پاکستان اوور 50 اور اوور 40 کے ورلڈ کپ بھی جیت چکا ہے، اسلئےامید ہے کہ اوور 60 کا یہ ورلڈ کپ بھی پاکستان دوبارہ جیتے گا۔

جنوبی افریقہ کے خلاف میچ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ دونوں ٹیموں کیلئے انتہائی اہم مقابلہ تھا اور جنوبی افریقہ بھی کامیابی کی صورت میں سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرسکتا تھا۔اطہر منہاس نے کہا کہ جنوبی افریقہ نے 134 رنز بنائے جسے پاکستان نے آسانی سے حاصل کرلیا، ہماری بیٹنگ بہت اچھی ہے اور ٹیم میں اعلیٰ معیار کے تجربہ کار کھلاڑی موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ساجد علی پاکستان کیلئے کھیل چکے ہیں، ظہیر عباس کے بھائی صغیر عباس بھی ٹیم میں ہیں جبکہ حارون رشید کے بھائی بھی کھیل رہے ہیں، پاکستان کے پاس بہت اچھے معیار کے کھلاڑی موجود ہیں۔

سیمی فائنل کے حوالے سے اطہر منہاس نے کہا کہ ممکنہ طور پر پاکستان کا مقابلہ نیوزی لینڈ یا انگلینڈ سے ہوگا، جبکہ آسٹریلیا کیخلاف آخری گروپ میچ کے نتیجے سے فیصلہ ہوگا کہ گروپ میں کون سی ٹیم کس پوزیشن پر آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اصل طاقت بیٹنگ ہے، ہمیں اپنی بیٹنگ پر اعتماد برقرار رکھنا ہوگا، دونوں ٹیمیں اچھی ہیں لیکن ہمیں اپنی طاقت برقرار رکھنی ہے، ان شاء اللہ پاکستان ورلڈ کپ جیتے گا۔