اسرائیلی سپریم کورٹ کا فلسطینی قیدیوں سے ریڈ کراس کی ملاقاتیں بحال کرنے کا حکم

یروشلم(الجزیرہ، عرب میڈیا، بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی)اسرائیلی سپریم کورٹ نے فلسطینی قیدیوں سے بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کی ملاقاتوں پر عائد حکومتی پابندی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق عدالت نے اپنے متفقہ فیصلے میں کہا کہ فلسطینی قیدیوں تک ریڈ کراس کی رسائی روکنا اسرائیلی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، جبکہ حکومت اس پابندی کے حق میں کوئی قانونی جواز پیش نہیں کر سکی۔

یہ پابندی اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد نافذ کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں فلسطینی قیدیوں سے ریڈ کراس کی تمام ملاقاتیں معطل کر دی گئی تھیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق گزشتہ 50 برس میں یہ پہلا موقع تھا جب ریڈ کراس کو قیدیوں سے ملاقاتوں سے روکا گیا۔عرب میڈیا کے مطابق درخواست گزار تنظیموں نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب 9 ہزار سے زائد فلسطینی قیدی دوبارہ ریڈ کراس کی ملاقاتوں سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے بھی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جیلوں کے دورے جلد از جلد دوبارہ شروع کرنے کے لیے اسرائیلی حکام سے رابطے میں ہے۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔