اسپتال میں میرے ساتھ قیدی جیسا سلوک کیا گیا:سونم وانگچک

نئی دہلی (میڈیا رپورٹس) بھارتی ماہرِ تعلیم اور سماجی کارکن سونم وانگچک نے دعویٰ کیا ہے کہ 18 جولائی کو پولیس انہیں احتجاجی مقام سے زبردستی اٹھا کر اسپتال لے گئی، جہاں ان کے ساتھ قیدی جیسا سلوک کیا گیا۔

سونم وانگچک نے اپنے تازہ بیان میں بتایا کہ سرکاری اسپتال کو ایک طرح سے چھاؤنی بنا دیا گیا تھا، انہیں کمرے سے باہر جانے، کسی سے ملاقات کرنے اور موبائل فون یا لیپ ٹاپ رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ بعد میں نجی اسپتال منتقل کیے جانے کے باوجود ان کی نقل و حرکت پر پابندیاں برقرار رہیں اور بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات رہے۔

سونم وانگچک نے کہا کہ انہیں سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ ان کے ساتھی، طلبہ اور حمایت کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ بھوک ہڑتال ختم کرنے کے وقت ان کے ساتھ موجود نہیں تھے۔

انہوں نے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے فیصلے پر ہونے والی تنقید مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں کوئی معاہدہ کرنا ہوتا تو وہ 26 دن تک بھوک ہڑتال نہ کرتے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں خدشہ تھا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف سخت کارروائی ہوسکتی ہے، اسی لیے امن برقرار رکھنے اور حالات خراب ہونے سے روکنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

سونم وانگچک کے مطابق مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جیتیندر سنگھ نے اسپتال میں ان سے ملاقات کی اور پارلیمنٹ میں بحث، معاوضے پر غور اور احتجاج کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

انہوں نے کہا کہ ابتدا میں حکومت صرف زبانی یقین دہانی کرا رہی تھی، تاہم انہوں نے تحریری ضمانت پر اصرار کیا اور اسی کے بعد بھوک ہڑتال ختم کی۔