اقوامِ متحدہ کے نئے نقشے میں اروناچل پردیش اور اکسائی چن الگ خطے قرار

نئی دہلی (غیر ملکی میڈیا رپورٹس) اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری کیے گئے دنیا کے نئے نقشے میں بھارتی جغرافیائی حدود کو مختلف انداز میں دکھائے جانے پر بھارت میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا کے موجودہ نقشے میں تبدیلی کے حق میں قرارداد منظور کی، جس میں دنیا کے مختلف خطوں بالخصوص افریقا کی زیادہ درست اور منصفانہ جغرافیائی نمائندگی پر زور دیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق فرانس، برطانیہ اور بھارت سمیت 164 ممالک نے افریقا کے حجم کو زیادہ درست انداز میں دکھانے کی حمایت کی، جبکہ صرف امریکا نے قرارداد کی مخالفت کی۔

نئے نقشے میں بھارتی ریاست اروناچل پردیش اور اکسائی چن کو بھارت اور چین کے باہمی سرحدی دعوؤں کے درمیان الگ خطوں کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ بھارت اروناچل پردیش کو اپنی ریاست جبکہ اکسائی چن کو لداخ کا حصہ قرار دیتا ہے، تاہم چین دونوں علاقوں پر بھارت کے دعوے کو تسلیم نہیں کرتا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نقشے میں اروناچل پردیش کی ناگالینڈ کے ساتھ سرحد ختم کرکے اسے ایک علیحدہ خطے کے طور پر دکھایا گیا ہے، جس کی سرحدیں آسام اور چین سے ملتی ہیں۔

اسی طرح اکسائی چن کو بھی الگ خطے کے طور پر دکھایا گیا ہے، جس کے مغرب میں بھارت جبکہ مشرق میں چین کی سرحد ظاہر کی گئی ہے۔یہ نقشہ یکم جولائی کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نقشے کی تصحیح (Correct the Map) کے عنوان سے پیش کی گئی قرارداد سے متعلق مباحثے کے دوران پہلی مرتبہ جاری کیا گیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت نے بھی ’’Correct the Map‘‘ کے عنوان سے پیش کی گئی اس قرارداد کی حمایت کی تھی۔اقوامِ متحدہ نے نئے نقشے میں اروناچل پردیش اور اکسائی چن کی جغرافیائی حیثیت میں کی گئی تبدیلیوں کے حوالے سے تاحال کوئی وضاحت جاری نہیں کی۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے افریقی یونین کی حمایت سے پیش کی گئی ’’Correct the Map‘‘ کے عنوان سے قرارداد منظور کی ہے۔

قرارداد میں دنیا کے مختلف خطوں، بالخصوص افریقا کی نقشہ سازی میں زیادہ درست اور منصفانہ جغرافیائی نمائندگی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔قرارداد قانونی طور پر پابند نہیں ہے، تاہم اس کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ کے معیاری نقشوں میں جغرافیائی نمائندگی کے حوالے سے تبدیلیاں شامل کیے جانے کی توقع ہے۔