البرٹا (خبر ایجنسیاں) کینیڈا کے صوبے البرٹا میں ریفرنڈم کے ابتدائی نتائج میں کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حامیوں کو کامیابی ملنے کے بعد وزیراعظم مارک کارنی نے صوبے کے عوام کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے، جبکہ ریفرنڈم کے 9 سوالات پر ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی تاحال جاری تھی۔ صوبے کی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے بھی منگل کی شب عوام سے خطاب کرنا تھا۔
وزیراعظم مارک کارنی نے منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شرکت سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس نتیجے پر بہت خوش ہیں کہ البرٹا کے عوام نے اتحاد اور مل کر آگے بڑھنے کا راستہ منتخب کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ کینیڈا کے لیے ایک اچھا نتیجہ ہے اور البرٹا کے عوام نے ایک دوسرے کا ساتھ دینے اور ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ مل کر ترقی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مارک کارنی نے بتایا کہ انہوں نے منگل کی صبح وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ سے ٹیلی فون پر بات کی۔ دونوں رہنماؤں نے البرٹا کے شہر وین رائٹ میں رواں ہفتے پیش آنے والے سانحے کے متاثرین کی مدد کے لیے مشترکہ اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا۔
وزیراعظم کے مطابق گفتگو میں ریفرنڈم کے دوران سامنے آنے والے دیگر اہم معاملات بھی زیرِبحث آئے، جن میں امیگریشن خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ کارنی نے کہا کہ وہ اس معاملے پر ڈینیئل اسمتھ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں اور وفاقی حکومت اور البرٹا آئینی تبدیلی کے بغیر بھی امیگریشن سے متعلق مسائل حل کر سکتے ہیں۔

ریفرنڈم کے تمام سوالات کے حتمی نتائج سامنے آنے تک ووٹوں کی گنتی جاری تھی، تاہم کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حامیوں کی کامیابی کے ابتدائی اندازوں کے بعد وفاقی حکومت نے اسے قومی اتحاد کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔

