امریکا کا کینیڈا سے درآمد ہونے والی تازہ مشروم پر مزید اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ

واشنگٹن (دی کینیڈین پریس)امریکا نے کینیڈا میں پیدا ہونے والی تازہ مشروم کی درآمد پر مزید اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی عائد کرنے کا ابتدائی فیصلہ کر لیا ہے، تاہم کینیڈین مشروم صنعت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی تحقیقات سے غیر منصفانہ قیمتوں پر فروخت کا دعویٰ ثابت نہیں ہوا۔

مشرومز کینیڈا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق امریکی محکمۂ تجارت نے اپنی ابتدائی اینٹی ڈمپنگ تحقیقات کے بعد زیادہ تر کینیڈین تازہ مشروم پر 8.26 فیصد اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی تجویز کی ہے۔

امریکی فیصلے کے تحت چیمپس فریش فارمز پر 8.71 فیصد، ہائی لائن پروڈیوس لمیٹڈ پر 11.80 فیصد جبکہ فارمرز فریش مشرومز انکارپوریٹڈ پر 2 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مشرومز کینیڈا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ریان کوسلیگ نے کہا کہ یہ شرحیں امریکی اینٹی ڈمپنگ قوانین کی تکنیکی پیچیدگیوں کی عکاس ہیں، نہ کہ شمالی امریکا کی مشروم مارکیٹ کی حقیقی تجارتی صورتحال کی۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکی اور کینیڈین منڈیوں کی اوسط قیمتوں کا حقیقی بنیادوں پر موازنہ کیا جائے تو ڈمپنگ کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آتا۔

یاد رہے کہ امریکی محکمۂ تجارت مئی میں بھی کینیڈین مشروم صنعت پر 2.84 فیصد انسدادِ سبسڈی ڈیوٹی عائد کر چکا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف تھا کہ کینیڈین مشروم پیدا کرنے والوں کو حکومتی سبسڈی حاصل ہے، تاہم کینیڈین صنعت نے اس الزام کی بھی تردید کی تھی۔

امریکی محکمۂ تجارت نے یہ تحقیقات رواں سال جنوری میں امریکی تنظیم فریش مشرومز فیئر ٹریڈ کولیشن کی درخواست پر شروع کی تھیں، جس نے کینیڈین مشروم کی درآمد پر 44 فیصد تک ڈیوٹی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ریان کوسلیگ نے کہا کہ ابتدائی نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ ڈمپنگ کے اصل الزامات مبالغہ آمیز تھے اور کینیڈین مشروم صنعت اس کیس میں بھرپور قانونی دفاع جاری رکھے گی تاکہ ثابت کیا جا سکے کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔