تہران (رائٹرز، اے ایف پی، ایرانی میڈیا)ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں پر طنزیہ ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو سزا دینے کی کوشش کرنے والوں نے تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث درحقیقت خود کو ہی نقصان پہنچایا۔
رائٹرز، اے ایف پی اور ایرانی میڈیا کے مطابق باقر قالیباف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک طنزیہ تصویر (میم) شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ “وہ ایران کو سزا دینا چاہتے تھے، لیکن تیل کی قیمتیں تین ہندسوں تک پہنچا کر انہوں نے خود کو ہی سزا دے ڈالی۔”

انہوں نے اپنی تحریر میں حریف ممالک کی حکمت عملی پر طنز کرتے ہوئے “10 میں سے 10” کا تبصرہ بھی کیا اور تالیاں بجانے کی علامتی شکل بھی شیئر کی۔
ایک اور پیغام میں ایرانی اسپیکر نے خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عالمی معیشت پر ممکنہ کساد بازاری کے اثرات کی عکاسی کرنے والا تصویری خاکہ بھی شیئر کیا۔
ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ کشیدگی بڑھنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جس کے باعث توانائی کی عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی۔
باقر قالیباف نے ایک روز قبل اپنے بیان میں خبردار کیا تھا کہ “اگر ہم خطے میں تیل فروخت نہیں کریں گے تو کوئی بھی تیل فروخت نہیں کر سکے گا۔ اگر ہماری سلامتی یقینی نہیں بنائی جاتی تو کسی کا بھی بنیادی ڈھانچہ محفوظ نہیں رہے گا۔”

