امریکی فوج کا ایران کے 140 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

واشنگٹن / تہران(رائٹرز، اے ایف پی، الجزیرہ، ایرانی میڈیا)امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے 140 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی یقینی بنانے اور تجارتی بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار اور تعینات ہیں۔

سینٹ کام کے بیان کے مطابق ایران کیخلاف اس ہفتے کے تیسرے فضائی حملوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے قبرص کے پرچم بردار ایک کنٹینر جہاز پر حملہ کیا۔ امریکی دعوے کے مطابق اس حملے میں جہاز میں آگ لگ گئی، انجن روم کو شدید نقصان پہنچا، ایک عملے کا رکن لاپتہ ہوگیا اور جہاز سفر جاری رکھنے کے قابل نہ رہا۔

امریکا کا کہنا ہے کہ ایران کو اس سے قبل تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد مفاہمتی یادداشت کی پاسداری کا ایک اور موقع دیا گیا تھا، تاہم تہران نے مبینہ طور پر دوبارہ اس کی خلاف ورزی کی۔ امریکی صدر کی ہدایت پر ان ایرانی فوجی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جن کے ذریعے، امریکی مؤقف کے مطابق، آبنائے ہرمز میں تجارتی اور شہری بحری جہازوں پر حملے کیے جاتے ہیں۔

دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن، بحرین، کویت، قطر اور عمان میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو “اگلے حکم تک بند” کر دیا گیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک ایسے جہاز پر فائرنگ کی جو ان کے بقول غیر منظور شدہ راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

ادھر ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کے دوران خندب میں ایک فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ بندر عباس، سِریک، چاہ بہار، بندر دیر، جسک اور عسلویہ سمیت جنوبی علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر جنگ کے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔