واشنگٹن(سی این این، رائٹرز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نے گزشتہ رات ایران پر “بہت سخت حملے” کیے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز تجارتی بحری آمدورفت کیلئےکھلی ہوئی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ ایک روز قبل معاہدہ طے پا گیا تھا اور تہران تقریباً تمام امریکی مطالبات ماننے پر آمادہ تھا، تاہم دو گھنٹے بعد ایران نے مبینہ طور پر ایک تجارتی جہاز پر ڈرون حملہ کر دیا۔
صدر ٹرمپ نے ایرانی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک ایسے معاہدے پر اتفاق کیا تھا جو امریکا کے لیے انتہائی بہتر تھا، لیکن معاہدے کے فوراً بعد تجارتی جہاز کو نشانہ بنا دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے معاہدے میں جوہری پروگرام سمیت تمام اہم معاملات پر رضامندی ظاہر کی تھی، تاہم بعد ازاں اپنے مؤقف سے ہٹ گیا۔
دوسری جانب امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ کارروائی کے دوران ایران کے 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ حملے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں کیے گئے اور یہ ایک ہفتے کے دوران ایران پر امریکی فضائی کارروائیوں کا تیسرا مرحلہ ہے۔
ایران نے امریکی صدر کے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا، جبکہ معاہدے اور تجارتی جہاز پر حملے سے متعلق دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

