لندن (رائٹرز، برطانوی میڈیا) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کردی، جبکہ رائٹرز کے مطابق امریکی حکام اور حوثی نمائندوں کے درمیان عمان کے دارالحکومت مسقط میں خفیہ ملاقات بھی ہوئی ہے۔
رائٹرز نے پانچ ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی حکام نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر مسقط میں امریکی سفارتخانے میں حوثی نمائندوں سے ملاقات کی، جس کے انتظام میں عمانی حکومت نے بھی معاونت کی۔ ایک ذریعے کے مطابق ملاقات اتوار کو ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق امریکی وفد میں سفارتخانے کے حکام شامل تھے، جبکہ حوثیوں کی جانب سے سینئر رہنما محمد عبدالسلام اور عبدالملک العجیری شریک ہوئے۔ محمد عبدالسلام پر امریکا نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حوثیوں نے امریکی حکام کو یقین دہانی کرائی کہ وہ امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں رکھتے اور 2025ء میں امریکا کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی پر قائم رہیں گے۔ ایک یمنی ذریعے کے مطابق حوثیوں نے اسرائیلی اور دیگر تجارتی جہازوں کو بھی نشانہ نہ بنانے کا کہا، تاہم سعودی عرب سے متعلق جہاز اس یقین دہانی میں شامل نہیں ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے مسقط میں ملاقات کی براہِ راست تصدیق نہیں کی، تاہم کہا کہ بحیرۂ احمر میں آزادانہ آمدورفت کا تحفظ اور خطے سے دہشت گردی کے پھیلاؤ کی روک تھام امریکا کے بنیادی مفادات میں شامل ہیں۔
یہ رابطے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حوثیوں نے یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا ہے، جس میں تاریخی بندرگاہ المخا اور باب المندب کے قریب جزیرہ پریم بھی شامل ہیں۔ رائٹرز کے مطابق حوثیوں کی پیش قدمی کے بعد سعودی عرب نے امریکا سے فوجی مدد طلب کی، تاہم واشنگٹن نے براہِ راست جنگ میں شمولیت سے گریز کیا ہے۔
امریکی انتظامیہ نے مارچ 2025ء میں حوثیوں کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا، تاہم اس کے باوجود واشنگٹن اور حوثیوں کے درمیان رابطے جاری رہے اور مئی 2025ء میں جنگ بندی طے پائی تھی۔

